خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 289

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۹ جلد دوم خدام الاحمدیہ کراچی کے لئے روح پرور پیغام خدام الاحمدیہ کراچی خیبر لاج مری ۲۴ جولائی ۱۹۵۶ء) عزیزان ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کے افسران نے مجھ سے خدام الاحمدیہ کراچی کے جلسہ کے لئے پیغام مانگا ہے۔میں اس کے ہوا پیغام کیا دے سکتا ہوں کہ ۱۹۱۴ء میں جب میں خلیفہ ہوا اور جب میری صرف ۲۶ سال عمر تھی خدام الاحمدیہ کی بنیا دا بھی نہیں پڑی تھی مگر ہر احمدی نوجوان اپنے آپ کو خادم احمدیت سمجھتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ جس دن انتخاب خلافت ہونا تھا مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے ایک ٹریکٹ شائع ہوا کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہیے صد را انجمن احمد یہ ہی حاکم ہونی چاہیے۔اُس وقت چند نوجوانوں نے مل کر ایک مضمون لکھا اور اُس کی دستی کا پیاں کیں۔اُس کا مضمون یہ تھا کہ ہم سب احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت فیصلہ کر چکے ہیں کہ جماعت کا ایک خلیفہ ہونا چاہئے اس فیصلہ پر ہم قائم ہیں اور تا زندگی قائم رہیں گے اور خلیفہ کا انتخاب ضرور کرا کے چھوڑیں گے۔سکول کے درجنوں طالب علم پیدل اور سائیکلوں پر چڑھ کے بٹالہ کی سڑک پر چلے گئے اور ہر نو وارد مہمان کو دکھا کر اُس سے درخواست کی کہ اگر آپ اس سے متفق ہیں تو اس پر دستخط کر دیں۔جماعت احمدیہ میں خلافت کی بنیاد کا وہ پہلا دن تھا اور اس بنیاد کی اینٹیں رکھنے والے سکول کے لڑکے تھے۔مولوی صدر الدین صاحب اُس وقت ہیڈ ماسٹر تھے۔اُن کو پتہ لگا تو وہ بھی بٹالہ کی سڑک پر چلے گئے وہاں اُنہوں نے دیکھا کہ سکول کا ایک لڑکا نو وارد مہمانوں کو وہ مضمون پڑھوا کر دستخط کروا رہا ہے۔انہوں نے وہ کاغذ اُس سے چھین کر پھاڑ دیا اور کہا چلے جاؤ۔وہ لڑکا