خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 13

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم خلیفہ سے تعلق ارادت ۱ار ستمبر ۱۹۲۸ء تعلیم الاسلام ہائی سکول اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی طرف حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے باغ میں ملک غلام فرید صاحب ایم اے کے اعزاز میں ایک پارٹی دی گئی اور ایڈریس پیش کیا گیا اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جو یر فرمائی اس میں خلیفہ کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔سو کبھی اخلاق کی درستی ، کارکنوں میں توازن قائم رکھنے اور دیگر کئی ایک وجوہ کے باعث کام لینے والے کو جذبات کو دبانا پڑتا ہے لیکن یہ دبانے سے اور بھی تیز ہوتے ہیں۔ہر وہ شخص جو دین کا کوئی بھی کام کرتا ہے گو وہ اپنا فرض ہی ادا کرتا ہے لیکن خلیفہ پر احسان بھی کرتا ہے کہ اس کی ذمہ داری خلیفہ پر ہے اور میں اس احسان کو اچھی طرح محسوس کرتا ہوں۔ایک اور بات بھی ہے خلیفہ کے تعلقات جماعت سے باپ بیٹے کے ہوتے ہیں۔اس لئے جہاں اسے مختلف موقعوں پر جذبات کو دبانا پڑتا ہے وہاں دوسروں کا فرض ہے کہ انہیں ظاہر کریں۔خلیفہ نے چونکہ بہتوں سے کام لینا ہوتا ہے اس لئے اسے جذبات تو دبانے پڑتے ہیں لیکن دوسروں کو ضرور ظاہر کرنے چاہئیں کیونکہ جذبات کے اظہار سے ظاہر کرنے والوں کی حقیقت اور میلان طبعی کا پتہ چلتا ہے اور اگر ہر کوئی اپنے جذبات کو دبائے ہی رکھے تو پھر کام لینا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن ظاہر کرنے کے بعد کام لینے والے کے دل میں جو بھی خدا تعالی ڈالے وہ اس کے مطابق کام لے سکتا ہے۔پس دوسروں کو اپنے جذبات دبانے نہیں چاہئیں کیونکہ جذبات کا دبانا بعض اوقات ٹھوکر کا موجب بھی ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک مخلص خادم تھے۔وہ حضور کی مجالس میں نہیں آتے تھے اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ حضور کے رُعب کے باعث جانے کی جرات نہیں