خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 279
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۹ جلد دوم میں ہر قسم کی سوشل تکالیف اور مشکلات کا علاج تھا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا پھر وہ تعلیم گئی کہاں اور ۳۳ سال ہی میں وہ کیوں ختم ہو گئی۔عیسائیوں کے پاس مسلمانوں سے کم درجہ کی خلافت تھی لیکن ان میں اب تک پوپ چلا آ رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیوں میں پوپ کے باغی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی اکثریت ایسی ہے جو پوپ کو مانتی ہے اور انہوں نے اس نظام سے فائدے بھی اُٹھائے ہیں لیکن مسلمانوں میں ۳۳ سال تک خلافت رہی اور پھر ختم ہو گئی۔اسلام کا سوشل نظام ۳۳ سال تک قائم رہا اور پھر ختم ہو گیا۔نہ جمہوریت باقی رہی ، نہ غربا پروری رہی ، نہ لوگوں کی تعلیم اور غذا اور لباس اور مکان کی ضروریات کا کوئی احساس رہا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساری باتیں کیوں ختم ہو گئیں ؟ اس کی یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کی ذہنیت خراب ہو گئی تھی۔اگر ان کی ذہنیت درست رہتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ نعمت اُن کے ہاتھ سے چلی جاتی۔پس تم خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرو اور ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھو۔اگر تم ایسا کرو گے تو خلافت تم میں ہمیشہ رہے گی۔خلافت تمہارے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے دی ہی اس لئے ہے تا وہ کہہ سکے کہ میں نے اسے تمہارے ہاتھ میں دیا تھا۔اگر تم چاہتے تو یہ چیز ہمیشہ تم میں قائم رہتی۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے الہامی طور پر بھی قائم کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے یہ کہا کہ اگر تم لوگ خلافت کو قائم رکھنا چاہو گے تو میں بھی اسے قائم رکھوں گا گویا اس نے تمہارے منہ سے کہلوانا ہے کہ تم خلافت چاہتے ہو یا نہیں چاہتے ؟ اب اگر تم اپنا منہ بند کر لو یا خلافت کے انتخاب میں اہلیت مدنظر نہ رکھو۔مثلاً تم ایسے شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لو جو خلافت کے قابل نہیں تو تم یقیناً اس نعمت کو کھو بیٹھو گے۔مجھے اس طرف زیادہ تحریک اس وجہ سے ہوئی کہ آج رات دو بجے کے قریب میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ پنسل کے لکھے ہوئے کچھ نوٹ ہیں جو کسی مصنف یا مؤرخ کے ہیں اور انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں پنسل بھی Copying یا Blue رنگ کی ہے۔نوٹ صاف طور پر نہیں پڑھے جاتے اور جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوٹوں میں یہ بحث کی گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان اتنی جلدی کیوں خراب ہو گئے۔