خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 278
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۸ تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گئی ہے جلد دوم اس جگہ ہمیشہ کے یہی معنی ہیں کہ جب تک تم چاہو گے تم زندہ رہ سکو گے لیکن اگر تم سارے مل کر بھی چاہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ رہتے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ہاں اگر تم یہ چا ہو کہ قدرت ثانیہ تم میں زندہ رہے تو وہ زندہ رہ سکتی ہے۔قدرت ثانیہ کے دو مظاہر ہیں۔اول تائید الہی۔دوم خلافت اگر قوم چاہے اور اپنے آپ کو مستحق بنائے تو تائید الہی بھی اس کے شامل حال رہ سکتی ہے اور خلافت بھی اس میں زندہ رہ سکتی ہے۔خرابیاں ہمیشہ ذہنیت کے خراب ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ذہنیت درست رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو چھوڑ دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ اِإِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يغيرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ کے یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کے ساتھ اپنے سلوک میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے دلوں میں خرابی پیدا نہ کر لے یہ چیز ایسی ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔کوئی جاہل سے جاہل انسان بھی ایسا نہیں ہوگا جسے میں یہ بات بتاؤں اور وہ کہے کہ میں اسے نہیں سمجھ سکا یا اگر ایک دفعہ سمجھانے پر نہ سمجھ سکے تو دوبارہ سمجھانے پر بھی وہ کہے کہ میں نہیں سمجھا۔لیکن اتنی سادہ سی بات بھی قو میں فراموش کر دیتی ہیں۔انسان کا مرنا تو ضروری ہے اگر وہ مر جائے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا لیکن قوم کیلئے مرنا ضروری نہیں۔قومیں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں لیکن وہ اپنی ہلاکت کے سامان خود پیدا کر لیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ صحابہ کو ایک ایسی تعلیم دی تھی جس پر اگر ان کی آئندہ نسلیں عمل کرتیں تو ہمیشہ زندہ رہتیں لیکن قوم نے عمل چھوڑ دیا اور وہ مرگئی۔دنیا یہ سوال کرتی ہے اور میرے سامنے بھی یہ سوال کئی دفعہ آیا ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے صحابہ کو ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی تھی جس