خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 273

خلافة على منهاج النبوة ۲۷۳ جلد دوم کر لیتی ہیں۔ان کی مثال کیلے کے درخت کی سی ہوتی ہے اگر کیلے میں پھل لگ جائے تو لوگ اسے کاٹ دیتے ہیں ورنہ اسے پھل نہیں لگتا۔یہی حال زندہ قوموں کا ہوتا ہے زندہ قوموں کے افراد اپنی شخصیت کو کچل دیتے اور قومیت کو زندہ کر دیتے ہیں اور مذہبی نقطہ نگاہ سے وہ اپنی جسمانیت کو مار کر روحانیت کو زندہ کر لیتے ہیں۔نادان کہتا ہے کہ خلیفہ خدا نہیں بناتا بلکہ اسے لوگ چنتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں کتنا بڑا فلسفہ بیان کیا ہے۔ساری تاریخ دیکھ لو۔تمہیں یہی نمونہ ملے گا کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو لیڈر پیدا کرتی ہیں۔تمہیں ایک تیمور مل جائے گا ، تمہیں ایک نپولین مل جائے گا، تمہیں ایک ہٹلر مل جائے گا لیکن تیموروں ، ہٹلروں اور نپولینوں کا سلسلہ اسی جگہ ملے گا جہاں قوم میں زندگی پائی جاتی ہو۔انگلینڈ کے مد بر کہاں سے گرتے ہیں؟ امریکہ کا پریذیڈنٹ سائنس کے کون سے عمل خانہ میں بنایا جاتا ہے؟ وہ معمولی آدمیوں میں سے ہی ایک آدمی ہوتا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ اس کے پیچھے قوم کی روح کھڑی ہے۔قوم پریذیڈنٹ کا آئینہ بن جاتی ہے اور پریذیڈنٹ قوم کا آئینہ بن جاتا ہے۔قرآن کریم نے اس گر کو بیان کیا ہے کہ خلیفہ تم چنو لیکن وہ ہمارا نمائندہ ہوگا۔( الفضل ۲۴ مئی ۱۹۶۲ء )