خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 262

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۲ جلد دوم راستے سے لوگوں کو پھیر نے والا ہے اور اس نے لوگوں سے پیسے بٹورنے کے لئے یہ دکان کھول رکھی ہے۔اب حیرت آتی ہے کہ کونسا ابو جہل آیا جس نے مرزا امام الدین کو یہ باتیں سکھائیں کہ تم باہر سے آنے والوں کو اس طریق سے روکا کرو یہ نسخہ میرا آزمایا ہوا ہے یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی باتیں مسمریزم کے ذریعہ مرزا امام الدین سے کہلوالیں۔دونوں میں سے ایک بات ضرور صحیح ہوگی۔لدھیانہ کے ایک دوست نور محمد نامی نو مسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بہت محبت و اخلاص رکھتے اُنہوں نے مصلح موعود ہونے کا دعوی بھی کیا تھا وہ کہا کرتے تھے کہ بیٹا جب باپ کے پاس جائے تو اسے کچھ نہ کچھ نذر ضرور پیش کرنی چاہیے۔ان کا مطلب یہ تھا کہ میں مصلح موعود ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہوں اور چونکہ وہ اپنے آپ کو خاص بیٹا سمجھتے تھے اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کم سے کم ایک لاکھ روپیہ تو انہیں ضرور پیش کرنا چاہیے۔کہتے ہیں ابھی اُنہوں نے چالیس پچاس ہزار روپیہ ہی جمع کیا تھا کہ وہ فوت ہو گئے اور نہ معلوم روپیہ کون کھا گیا۔اُنہوں نے بہت سے چوہڑے مسلمان کئے اور ان سے کہا کرتے تھے کہ کچھ روپیہ جمع کرو پھر تمہیں دادا پیر کے پاس ملاقات کے لئے لے چلوں گا کچھ عرصہ کے بعد ان کو مسلموں نے کہا کہ پتہ نہیں کہ آپ کب جائیں گے آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم قادیان ہو آئیں۔اس پر اُنہوں نے ان نو مسلموں کو قادیان آنے کی اجازت دے دی۔وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیر کے لئے نکلے تو وہ باہر کھڑے ہوئے تھے غالبا وہ ۹ آدمی تھے۔ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک اشرفی پیش کی کیونکہ ان کے پیر نے کہا تھا کہ تم دادا پیر کے پاس جا رہے ہو میں تمہیں اس شرط پر جانے کی اجازت دیتا ہوں کہ تم دادا پیر کے سامنے سونا پیش کرو۔چنانچہ اُنہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے پیر نے ہمیں اس شرط پر آنے کی اجازت دی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک آدمی آپ کی خدمت میں سونا پیش کرے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وہ سیر کو چلے گئے جب سیر سے واپس آئے تو چونکہ اُن کو حقہ پینے کی عادت تھی اس لئے وہ حقہ پینے کے لئے مرزا امام الدین کے پاس چلے