خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 257

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۷ جلد دوم نے ان کو ایسا ایمان اور ایسا جوش بخشا کہ کوئی بڑی سے بڑی روک بھی انہیں کچھ نہ نظر آئی تھی۔آج کے نوجوان اور آج کی جماعت اگر ویسا ہی ایمان پیدا کر لے تو دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتی ہے۔جو کام ایک پونڈ بارود کر سکتا ہے ایک ٹن بارود اس سے بہت زیادہ کام کر سکتا ہے۔اگر اُس وقت جماعت کی حیثیت پونڈ کی تھی تو آج خدا کے فضل سے ٹن کی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اُس وقت جماعت کے لوگ بارود تھے کیا آج بھی وہ بارود ہیں یا ریت کا ڈھیر؟ اگر بارود ہیں تو یقیناً آج اُس وقت کی نسبت بہت زیادہ کام کر سکتے ہیں لیکن اگر ریت ہیں تو اُس وقت کے کام کا سواں حصہ بھی نہیں کر سکتے۔پس میں نو جوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اندرا خلاص پیدا کریں۔مجھے اُس وقت کے ایک طالب علم کا واقعہ یاد آ گیا۔اب وہ دارجلینگ میں تاجر ہے۔اُس وقت یہاں سوال پیدا ہوا کہ جماعت کیا چاہتی ہے؟ آیا خلافت قائم رہے یا نہ؟ اس کے لئے لوگوں کی رائے نوٹ کرنے کا بعض اصحاب نے انتظام کیا۔بعض سکول کے لڑکوں نے بھی کہا کہ رائے نوٹ کرنے والے کاغذ ہمیں بھی دو ہم بھی دستخط کرائیں گے۔ان سے کہا گیا کہ تمہارے ہیڈ ماسٹر صاحب خلاف ہیں تمہیں تکلیف نہ پہنچے۔اُس وقت مولوی صدر دین صاحب ہیڈ ماسٹر تھے مگر لڑکوں نے کہا ہمیں نقصان کی پرواہ نہیں۔اس طرح اس لڑکے نے بھی کاغذ لے لیا اور جو مہمان آتے ان کے سامنے پیش کرتا کہ اپنی رائے لکھ دیجئے۔اسے دیکھ کر ہیڈ ماسٹر آیا اور اس نے اس کے ہاتھ سے زبر دستی کا غذ چھین کر پھاڑ دیا اور کہا جاؤ ایسا نہ کرو یہ میرا حکم ہے مگر اس نے پھر کاغذ لیا اور پنسل سے وہی عبارت اس پر لکھ کر جو پہلے کاغذ پر لکھی تھی لوگوں کے سامنے پیش کرنے لگ گیا۔پھر ہیڈ ماسٹر آیا اور اس نے کاغذ چھین کر پھاڑ ڈالا اور دستخط کرانے سے منع کیا۔اس پر اس نے کہا میں آپ کے ادب کی وجہ سے اور تو کچھ نہیں کہتا مگر یہ دینی کام ہے میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔اس کا والد بھی مخالف تھا اس نے اسے خرچ دینا بھی بند کر دیا مگر اس نے کوئی پرواہ نہ کی اور آج اچھا تا جر ہے۔“ ( الفضل یکم نومبر ۱۹۴۵ء ) 66 مسلم کتاب الایمان باب الحث على المبادرة بالاعمال صفه ۶۳ حدیث نمبر ۳۱۳ مطبوعہ ریاض ۲۰۰۰ء الطبعة الثانية