خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 256
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۶ جلد دوم تمہارا حضرت خلیفۃ اصبح الاول سے کتنا گہرا تعلق ہے اور تم ان سے سنتے رہے ہو کہ خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے کا ذکر کرنا گناہ ہے تم بجائے اس کے کہ اچھا نمونہ دکھاتے بہت بُرا نمونہ پیش کر رہے ہو۔میرے یہ کہنے پر اُسے اور بھی رقت آ گئی اور وہ بے ساختہ رونے لگ گیا اور کہا میں جانتا ہوں مگر مجھ سے رہا نہیں گیا کیونکہ میں فتنہ کے آثار دیکھ رہا ہوں۔حضرت خلیفہ اُمسیح الاوّل کی حالت نازک ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی آنکھیں بند ہوتے ہی قا بو یافتہ لوگ نظام سلسلہ کو بدلنے کی کوشش کریں گے اس وجہ سے میں نے بیعت کے لئے کہا ہے۔یہ سات آٹھ دن حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کی وفات سے پہلے کا واقعہ ہے۔وہ میرا گہرا دوست تھا اور چند ہی گہرے دوستوں میں سے تھا۔اس نے اس جوش سے مصافحہ کیا اور یہ جانتے ہوئے کہ خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے کا ذکر کرنا جائز نہیں بے تاب ہو کر کیا اور روتے ہوئے کہا کہ اسے میری بیعت سمجھیں مگر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد جماعت نے جب یہ فیصلہ کیا کہ خلافت کو قائم رکھیں گے اور خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ اس فیصلہ کے مطابق جو قرآن اور اسلام کے رو سے درست ثابت ہے میں جماعت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لوں تو تیسرے ہی دن اس کی طرف سے تار پہنچا کہ فوراً مولوی محمد علی وغیرہ سے صلح کر لوور نہ انجام اچھا نہ ہو گا۔اس سے قیاس کرلو کہ وہ کیسے ہیجان کا زمانہ تھا جو شخص آٹھ ہی دن پہلے میرا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہ اسے میری بیعت سمجھو اور میں اسے ملامت کرتا ہوں کہ تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے وہی آٹھ دن بعد مجھے کہتا ہے کہ تم نے غلطی کی ہے فوراً مولوی محمد علی صاحب سے صلح کر لو ورنہ تمہارا انجام اچھا نہ ہوگا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ ایک شخص رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کا فر اُٹھے گا اور ایک شخص رات کو کا فرسوئے گا اور صبح کو مومن اُٹھے گا لے وہ بات پیدا ہوگئی تھی۔تو آج آپ لوگ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ دن کیسے خطر ناک تھے اور خدا تعالیٰ نے کس قسم کے فتنوں میں سے جماعت کو گزارا۔اُس حالت کا آج کی حالت سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔اگر وہی جوش اور وہی اخلاص جو اُس وقت جماعت میں تھا آج بھی آپ لوگوں میں ہو تو یقیناً تم پہاڑوں کو ہلا سکتے ہو۔اُس وقت جماعت کے لوگ بہت تھوڑے تھے مگر خدا تعالیٰ