خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 252

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۲ جلد دوم تسکین دینے کے لئے ہر بادشاہ کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا مگر گجا لکڑی کی بنی ہوئی بھینس اور گجا اصل بھینس۔لکڑی کی بنی ہوئی بھینس کو دیکھ کر کوئی شخص خوش نہیں ہو سکتا لیکن وہ اپنی اصل بھینس کو دیکھ کر ضرور خوش ہوتا ہے چاہے وہ کتنی ہی لاغر اور دبلی پتلی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ دودھ دے یا نہ دے۔مسلمانوں نے چونکہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ خلافت کی ناقدری کی اور اُسے اُڑا دیا اور پھر اس کی برکات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے دُنیوی بادشاہوں کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا۔اس لئے وہ خلافت کی برکات سے محروم ہو گئے۔اب یہ ہماری جماعت کا کام ہے کہ وہ اس غفلت اور کوتاہی کا ازالہ کرے اور خلافت احمدیہ کو ایسی مضبوطی سے قائم رکھے کہ قیامت تک کوئی دشمن اس میں رخنہ اندازی کرنے کی جرات نہ کر سکے اور جماعت اپنی روحانیت اور اتحاد اور تنظیم کی برکت سے ساری دنیا کو اسلام کی آغوش میں لے آئے۔بے شک جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ دنیا چلتی چلی جاتی ہے اور ایسے رنگ میں جاری ہے کہ ہر زمانہ کے لوگ اپنے آپ کو پہلوں سے ترقی یافتہ سمجھتے ہیں۔مرنے والے مرجاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں اب کیا ہوگا؟ لیکن ابھی ایک صدی بھی نہیں گزرتی کہ لوگ کہنا شروع کر دیتے ہیں اب ہم زیادہ عقلمند ہیں پہلے لوگ جاہل اور علوم صحیحہ سے بے بہرہ تھے۔گویا وہی جن کے متعلق ایک زمانہ میں کہا جاتا ہے کہ اُن کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا انہیں آئندہ آنے والے احمق اور جاہل قرار دیتے ہیں لیکن روحانی تعلق ایسا نہیں ہوتا کہ اس میں ایک دوسرے کو جاہل کہا جا سکے نہ یہ تعلق اس قسم کی مایوسی پیدا کرتا ہے جس قسم کی مایوسی جسمانی تعلق کا انقطاع پیدا کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو شخص خدا سے تعلق پیدا کر لیتا ہے اُسے بھی غم ہو سکتا ہے لیکن مایوسی اُس کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی۔غم ایک ایسی چیز ہے جسے خدا نے روحانی ترقی کیلئے اس دنیا میں ضروری قرار دیا ہے۔دو وفائیں ہیں جو خدا نے ضروری قرار دی ہیں ایک اپنے ساتھ اور ایک اپنے بندوں کے ساتھ۔اگر غم نہ ہو تو یہ بندوں کے ساتھ وفا نہیں سمجھی جائے گی اور اگر مایوسی ہو تو یہ خدا کے متعلق بے وفائی ہوگی اسی