خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 251

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۱ جلد دوم کے ذریعہ ایک پاک انسان دوسرے پاک انسان کو پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے دنیا سے رنج اور غم کو بالکل مٹا دیتا ہے کیونکہ اس تعلق کیلئے موت نہیں ، اِس تعلق کیلئے فنا نہیں اور اگر بنی نوع انسان چاہیں تو وہ اپنی زندگی کو دائمی زندگی بنا سکتے ہیں۔جس کا طریق یہی ہے کہ ہر نسل قدرت ثانیہ کے مظاہر کے ذریعہ اس طرح خدا تعالیٰ سے وابستہ رہے جس طرح پہلی نسل اُس سے وابستہ رہی ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔کیونکہ روحانی تناسل کا انقطاع ایک موت ہے لیکن جسمانی تناسل کا انقطاع صرف ایک عارضی صدمہ۔تم عیسائیوں کو دیکھ لو انہیں تم کچھ کہہ لو۔چاہے اُن کو خدا کا منکر کہو، چاہے اُن کو صلیب پرست کہو ، چاہے اُن کو مشرک کہو اور چاہے اُن کو ضالین کہہ لومگر ایک مثال اُن کے اندرایسی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی آنکھ اُن کے سامنے جھک جانے پر مجبور ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ تمہارے اندر خلافت قائم کی جائے گی اور اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اندر خلافت قائم بھی کی لیکن مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی قائم کر دہ خلافت کو اپنی نادانی سے اُڑا دیا اور عیسائیوں نے خود خلافت قائم کی جو انہیں سو سال کا لمبا عرصہ گزار نے کے باوجود آج تک اُن کے اندر قائم ہے۔عیسائیوں کے پوپ کو دیکھ لو اس کو وہ خلیفہ کے برابر ہی سمجھتے ہیں اور باوجود یکہ مذہب نے اُن کو کوئی ہدایت نہیں دی تھی انہوں نے خدا تعالیٰ کی گزشتہ سنت کو دیکھتے ہوئے اسی میں اپنی بہتری سمجھی اور کہا آؤ ہم اس خدائی سنت سے فائدہ اُٹھائیں اور اپنے اندر خلافت قائم کریں۔وہ قوم دینی لحاظ سے بالکل تباہ ہوگئی ، وہ قوم اچھے اعمال کو کھو بیٹھی ، اس قوم نے اپنے آپ کو گلی طور پر دُنیوی رنگ میں رنگین کر لیا ، اس قوم نے خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی لیکن اُنہوں نے آج تک اس چیز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے کہ آج بھی ان کا پوپ یورپ کے بڑے سے بڑے تاجدار اور شہنشاہ کی برابری کرتا ہے اور بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ بادشاہت ہمیں پوپ سے ہی پہنچی ہے۔یہ وہ چیز تھی جو اُن کی کامیابی کا موجب ہوئی۔اگر مسلمان بھی اس کو قائم رکھتے تو آج ان کو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔انہوں نے خلافت کو اُڑا دیا اور پھر اپنے دلوں کو