خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 247

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۷ جلد دوم چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو یہ بات صحابہ کے لئے اس قد رصد مہ کا موجب ہوئی کہ وہ لمبی تعلیم جو متواتر تیئیس سال تک خدا کا رسول اُن کو دیتا رہا اُس کو بھی وہ بھول گئے۔جس رسول نے بڑے زور سے اُن پر یہ واضح کیا تھا کہ مرنے کے بعد انسان اس دنیا میں واپس نہیں آتا ، جس رسول نے بڑے زور سے واضح کیا تھا کہ ہر انسان جو اس دنیا میں آیا وہ ایک دن مرے گا اور جس رسول کے کلام میں یہ بات موجود تھی کہ ایک دن وہ خود بھی مرنے والا ہے اُس کی اُمت کے ایک جلیل القدر فرزند نے کہنا شروع کر دیا کہ جو شخص کہے گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اُس کی تلوار سے گردن اُڑا دی جائے گی ہے ہماری جماعت کے وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کا زمانہ نہیں دیکھا شاید اس پر تعجب کرتے ہوں گے اور یہ واقعہ پڑھ کر اُن کو خیال آتا ہو گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہ کو یہ خیال کیونکر پیدا ہو گیا کہ آپ فوت نہیں ہو سکتے۔مگر جب وہ اس نقطہ نگاہ سے دیکھیں گے تو اس بات کا سمجھنا ان کے لئے کوئی مشکل نہیں رہے گا کہ جن وجودوں سے شدید محبت ہوتی ہے اُن کی جدائی کا امکان بھی دل پر گراں گزرتا ہے اور جب وہ وقت آ جاتا ہے جس کا تصور بھی انسان کو بے چین کر دیتا ہے تو عارضی طور پر انسان پر ایک سکتہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔کیا ہی سچے جذبات کا آئینہ ہے حسان کا وہ شعر جو اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا جب آپ کی وفات اُن پر ثابت ہوگئی تو انہوں نے کہا بع كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ۔فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو میری آنکھ کی پتلی تھے آج آپ فوت ہوئے تو میری آنکھ بھی جاتی رہی۔یا درکھنا چاہئے کہ اس شعر کی عظمت اور اس کی خوبی کا اس امر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شعر کہنے والا آخری عمر میں نابینا ہو گیا تھا اور اندھے کی نظر پہلے ہی جا چکی ہوتی ہے۔پس اُس کے یہ کہنے کا کہ آپ میری آنکھ کی پتلی تھے آپ کی وفات سے میں اندھا ہو گیا مطلب یہ تھا