خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 246
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۶ جلد دوم ایک ایسا وقت آیا جب دنیا تاریکی کے گڑھوں میں گر گئی ، گمراہی میں مبتلا ہو گئی ، خدا تعالیٰ کے تازہ نشانوں سے محروم ہو گئی اور یہ دو ر ضلالت جاری رہا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آیا اور اُنہوں نے بندوں کا خدا سے پھر تازہ عہد باندھا۔اس کے بعد پے در پے انبیا ءلوگوں کی ہدایت کے لئے آتے رہے۔داؤ د آئے ، سلیمان آئے ، الیاس آئے ، یحیی آئے ، عیسی آئے اور آخر میں ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔جس طرح آدم کے زمانہ میں لوگوں کو یہ احساس تھا کہ خدا نے ایک نیا نور پیدا کیا ہے، ایک نئی چیز دنیا میں ظاہر کی ہے اور وہ خیال کرتے تھے کہ ایسی چیز پھر دنیا میں کب آ سکتی ہے وہ اپنے تجربہ کے مطابق آدم کو ہی اول الانبیاء اور آدم کو ہی آخر الانبیاء سمجھتے تھے۔اسی طرح کا احساس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونا شروع ہو گیا۔بات یہ ہے کہ سارے ہی نبی اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ ہر نبی کی اُمت یہی سمجھ لیتی ہے کہ یہ نبی آخری نبی ہے۔قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام فوت ہو گئے تو اُن کی قوم نے کہا اب یوسف کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا لے حقیقت یہ ہے کہ انبیاء خدا تعالیٰ کی مہربانی اور اُس کی شفقت اور اُس کی عنایت اور اُس کی رافت کا ایسا دلکش نمونہ ہوتے ہیں کہ اُن کو دیکھنے کے بعد لوگ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے کہ ایسے وجود دُنیا پھر بھی پیدا کر سکتی ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود تو ایسا تھا جس کے متعلق یہ دعویٰ بھی موجود تھا کہ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ کی شریعت آخری شریعت ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک تو اس کے یہ معنی تھے کہ آپ آخری شرعی رسول ہیں اور یہ کہ اب دنیا میں جو بھی رسول اور مصلح آئے گا وہ آپ سے روحانی فیوض حاصل کر کے اور آپ کا غلام اور شاگرد بن کر آئے گا۔مگر جو دیکھنے والے تھے جن کو ابھی آئندہ کا تجربہ نہیں تھا اُن میں سے بعض شاید یہی سمجھتے ہوں کہ آپ دنیا کے لئے آخری روشنی ہیں اور وہ یہی خیال کرتے ہوں کہ اس روشنی کو خدا اب واپس نہیں لے گا اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا خیال بھی اُن کے لئے ایک ایسا صدمہ تھا جن کو برداشت کرنا اُن کی طاقت سے بالکل باہر تھا