خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 230
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۰ جلد دوم دی۔وہ کہنے لگا مولوی نورالدین دین سے واقف تھا وہ چالا کی کر گیا ہے اس کے مرنے پر دیکھنا کہ کیا بنتا ہے۔جب حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے تو اُس وقت وہ ابھی زندہ تھا اور اُس وقت چونکہ یہ شور پیدا ہو چکا تھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں اصل جانشین انجمن ہے اور بعض خلافت کے قائل ہیں اس لئے اس نے سمجھا کہ اب تو جماعت ضرور ٹھو کر کھا جائے گی چنانچہ اس نے کہنا شروع کر دیا کہ میری بات یا درکھنا اب ضرور تم نے انجمن کو اپنا مطاع تسلیم کر لیتا ہے مگر معا یہاں سے میری خلافت کی اطلاع چلی گئی۔یہ خبر سن کر وہ مولوی کہنے لگا کہ تم لوگ بڑے چالاک ہو۔خلافت محمد رسول اللہ صلی اللہ غرض رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے تو اس لیے کہ علیہ وسلم کی یاد کو قائم رکھتی ہے مسجد سے اس کی مشابہت ثابت ہو۔جس طرح مسجد بنائی ہی اس لئے جاتی ہے تا کہ عبادت میں اتحاد قائم رہے اسی طرح نبیوں کی جماعت قائم ہی اس لئے کی جاتی ہے تاکہ عبودیت میں اتحاد قائم رہے۔پس جس طرح مسجد خانہ کعبہ کی یاد کو قائم رکھتی ہے اسی طرح خلافت محمد ﷺ کی یاد کو قائم رکھتی ہے یہی وہ حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا تھا کہ واتَّخِذُوا مِنْ مقام ابرجِمَ مُصَلَّى ل ایک خانہ خدا قائم کر دیا گیا ہے اب تم بھی ابراہیمی طریق پر زندگی بسر کرو اور اس کی روح کو زندہ رکھو۔مقام ابراہیمی کو مصلی بنانے کا مفہوم مقام ابراہیم کو مصلی بنانے کے یہ معنی نہیں کہ ہر شخص ان کے مصلی پر جا کر کھڑا ہو یہ تو قطعی طور پر ناممکن ہے اگر اس سے یہی مراد ہوتی کہ مقامِ ابراہیم پر نماز پڑھو تو اول تو یہی جھگڑا رہتا کہ حضرت ابراہیم نے یہاں نماز پڑھی تھی یا وہاں ؟ اور اگر بالفرض یہ پستہ یقینی طور پر بھی لگ جاتا کہ انہوں نے کہاں نماز پڑھی تھی تو بھی ساری دنیا کے مسلمان وہاں نما ز نہیں پڑھ سکتے تھے۔صرف حج میں ایک لاکھ کے قریب حاجی شامل ہوتے ہیں ، اگر حنفیوں کی طرح نماز میں مرغ کی طرح ٹھونگیں ماری جائیں تب بھی ایک شخص کی نماز پر دومنٹ صرف ہونگے اس کے معنے یہ ہوئے کہ ایک گھنٹہ میں تین اور چوبیس گھنٹے میں سات سو ہیں آدمی وہاں نماز پڑھ سکتے ہیں اب بتاؤ کہ باقی جو ۹۹ ہزار ۲۸۰ رہ جائیں گے وہ کیا