خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 214
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۴ جلد دوم سنا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے بعد خدا تعالیٰ مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کرے گا پھر تم خود میرے متعلق ایک کتاب لکھ رہے تھے جس میں ان پیشگوئیوں کا ذکر تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے متعلق کیس پس تم پر حجت تمام ہو چکی ہے اور تم میرا انکار کر کے اب دہریت سے ورے نہیں رہو گے۔یہ خط میں نے اُسے لکھا اور ابھی اس پر ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ دہر یہ ہو گیا۔چنانچہ وہ آج تک دہر یہ ہے اور عَلَى الإغلانُ خدا تعالیٰ کی ہستی کا منکر ہے حالانکہ وہ حضرت خلیفہ اول کی وفات سے بارہ تیرہ دن پہلے میری بیعت کیلئے تیار تھا اور پھر میرے متعلق ایک کتاب بھی لکھ رہا تھا جس میں اس کا ارادہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اُن تمام پیشگوئیوں کو جمع کر دے جو میرے متعلق ہیں مگر چونکہ اس نے ایک کھلی سچائی کا انکار کیا اس لئے میں نے اُسے لکھا کہ اب میرا انکار تمہیں دہریت کی حد تک پہنچا کر رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ ایک مہینہ کے اندر اندر دہر یہ ہو گیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ وہ میرے پاس آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر بحث کرنے لگا۔میں نے اُسے کہا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کو جانے دو تم یہ بتاؤ کہ میں نے تمہارے متعلق جو پیشگوئی کی تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں ؟ اس پر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔غیر مبائعین کے متعلق الہام لَيُمَزَ قَنَّهُمْ پورا ہو گیا غیر مباین کے پاس دوسری بڑی چیز جتھا تھی۔انہیں اس بات پر بڑا گھمنڈ تھا کہ جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ ان کے ساتھ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے انہی دنوں مجھ پر الہام نازل کیا کہ ”لیمز قَنَّهُم “ اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔چنانچہ خدا کی قدرت وہی خواجہ کمال الدین صاحب جن کے مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ایسے گہرے تعلقات تھے کہ خواجہ صاحب اگر رات کو دن کہتے تو وہ بھی دن کہنے لگ جاتے اور وہ اگر دن کو رات کہتے تو یہ بھی رات کہنے لگ جاتے ان کی خواجہ صاحب کی وفات سے دو سال پہلے آپس میں وہ لڑائی ہوئی اور ایک دوسرے پر ایسے ایسے اتہامات لگائے