خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 213

خلافة على منهاج النبوة ۲۱۳ جلد دوم فاضل ، نہ دولت میرے پاس تھی نہ جتھا، چنانچہ خدا گواہ ہے جب خلافت میرے سپرد ہوئی تو و اس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ خدا کے عرفان کی نہر کا ایک بند چونکہ ٹوٹ گیا ہے اور خطرہ ہے کہ پانی ادھر اُدھر بہہ کر ضائع نہ ہو جائے ، اس لئے مجھے کھڑا کیا گیا ہے تا کہ میں اپنا مردہ دھڑ اس جگہ ڈال دوں جہاں سے پانی نکل کر بہہ رہا ہے اور وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہو جائے چنانچہ میں نے دین کی حفاظت کیلئے اپنا دھڑ وہاں ڈال دیا اور میں نے سمجھا کہ میرا کام ختم ہو گیا مگر میری خلافت پر ابھی تین دن بھی نہیں گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ کے نشانات بارش کی طرح برسنے شروع ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کا ایک عجیب نشان چنا نچہ علی گڑھ کا ایک نو جوان جس کی حالت یہ تھی کہ وہ حضرت خلیفہ اول کے عہد میں ہی میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیاں جمع کرنے لگ گیا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ یہ پیشگوئیاں اتنی زبر دست ہیں کہ ان کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔وہ حضرت خلیفہ اول کی وفات سے بارہ تیرہ دن پہلے قادیان آیا اور یہ دیکھ کر کہ آپ کی حالت نازک ہے مجھے کہنے لگا کہ میں آپ کی بیعت کرنے کیلئے تیار ہوں۔میں نے کہا تم کیسی گناہ والی بات کر رہے ہو ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کے متعلق گفتگو کرنا شرعاً بالکل نا جائز اور حرام ہے تم ایسی بات مجھ سے مت کرو۔چنانچہ وہ علی گڑھ واپس چلا گیا اور بارہ تیرہ دن کے بعد حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوگئی۔وہ چونکہ حضرت خلیفہ اول سے اچھے تعلقات رکھتا تھا اس لئے جب آپ کی وفات پر اختلاف ہوا تو بعض پیغامیوں نے اُسے لکھا کہ تم اس فتنہ کو کسی طرح دور کرو۔اس پر اُس نے علی گڑھ سے مجھے تار دیا کہ فوراً ان لوگوں سے صلح کر لو ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔میں نے اُسے جواب لکھا کہ تمہارا خط پہنچا تم تو مجھے یہ نصیحت کرتے ہو کہ میں ان لوگوں سے صلح کرلوں مگر میرے خدا نے مجھ پر یہ الہام نازل کیا ہے کہ : - کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے پس میں ان سے صلح نہیں کر سکتا۔رہا تمہارا مجھے یہ تحریک کرنا سو یا د رکھو تم خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی محبت کے نیچے ہو۔تم نے حضرت خلیفہ اول کی زبان سے میرے متعلق بارہا ایسا ذکر