خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 197
خلافة على منهاج النبوة عهْدِى الظلمين و ۱۹۷ جلد دوم یعنی اُس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے بعض باتوں کے ذریعہ سے آزمایا اور اس نے ان سب کو پورا کر کے دکھا دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم ! میں تجھے لوگوں کا امام مقر ر کرنے والا ہوں۔حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ اے خدا ! میری اولاد میں سے بھی امام بنا ئیو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔بہت اچھا مگر ان میں سے جو لوگ ظالم ہو جائیں گے ان کو امام نہیں بنایا جائے گا۔ا اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے انہیں امام بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام فوراً اور جائز طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ جو کام میرے سپر د ہونے والا ہے وہ ایک نسل میں پورا نہیں ہو سکتا اور ضرورت ہے کہ میرے بعد بھی کچھ اور وجو د ہوں جو اس کام کو چلائیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذریت کے امام بنانے کی درخواست کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہاں ان سے بھی میں وعدہ کرتا ہوں مگر ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچے گا۔اس آیت میں بھی وعدہ اولاد سے ہے گو ظالم اولا د سے نہیں لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں یا تو امام تھے یا ظالم تھے ان دونوں کے سوا بھی اور اولادتھی۔پھر ان سے امامت کا وعدہ کس طرح پورا ہوا ؟ اسی طرح کہ بعض کو امامت ملی اور بعض کو ان کے ذریعہ سے امامت سے فائدہ پہنچا۔یہ بھی آیت استخلاف کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ وعدہ تو سب سے تھا پھر خلافت شخصی نکس طرح ہوسکتی ہے۔مگر میں اس وقت آیت کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اولاد کے متعلق امامت کا وعدہ تھا وہ وعدہ کس طرح پورا ہوا ؟ آپ کے بعد آپ کی اولاد میں سے چار نبی ہوئے (۱) حضرت اسماعیل (۲) حضرت اسحاق (۳) حضرت یعقوب (۴) حضرت یوسف۔اور ان چاروں انبیاء خلفاء نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشن کو تکمیل تک پہنچایا۔قرآن کریم میں دوسری جگہ ان چاروں کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔فرماتا ہے۔و إذْ قَالَ إِبْرهِمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُ ، قَالَ اوَ لَمْ تُؤْمِنُ ، قَالَ