خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 196

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۶ جلد دوم کہ میں یوں کروں گا اور ووں کروں گا۔گویا مومن کے ارادے بہت نیک ہوتے ہیں۔(۲) دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ عملوا الصلحت کے مصداق ہوتے ہیں۔یعنی صالح ہوتے ہیں مگر فرماتا ہے جب وہ خلافت کا انکار کرتے ہیں تو فاسق ہو جاتے ہیں۔فاسق کے معنی ہیں جو حلقہ اطاعت سے نکل جائے اور نبی کی معیت سے محروم ہو جائے۔پس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ نیک ارادے رکھنے والوں اور صالح لوگوں میں خلافت آتی ہے۔مگر جو اس سے منکر ہو جائیں تو باوجود نیک ارادے رکھنے اور صالح ہونے کے وہ اس فعل کی وجہ سے نبی کی معیت سے محروم کر دئیے جاتے ہیں۔اب آیت کے ان الفاظ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس رؤیا کے مقابل پر رکھو جو آپ نے مولوی محمد علی صاحب کے متعلق دیکھا اور جس میں آپ ان سے فرماتے ہیں :۔جاؤ۔،،، آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ تو معلوم ہوا کہ یہ بعینہ وہی بات ہے جو الّذینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحت اور من كَفَرٌ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الفسقون کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ ایمان رکھنے اور عمل صالح کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ان میں خلافت قائم کرے گا۔مگر جو شخص اس نعمت کا انکار کر دے گا وہ نبی کی معیت سے محروم کر دیا جائے گا۔اس رویا میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بیٹھایا نہیں بیٹھا۔مگر قرآنی الفاظ بتاتے ہیں کہ ایسے شخص کو پاس بیٹھنے کی توفیق نہیں ملی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ ۷۸ دوسری آیت جو خلافت کے خلافت راشدہ کی تائید میں دوسری آیت ثبوت میں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و إذا بُتَلَى ابْرُهم رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فاتمهن ، قال إنّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَا مَا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ