خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 164

خلافة على منهاج النبوة ۱۶۴ جلد دوم کو روک لیا جائے تا کہ وہ ہماری مدد کر سکے ، اُن میں بھی وہی تو کل آ جاتا ہے اور وہ ایک وقت میں ساری دنیا سے جنگ کرتے ہیں اور ذرا نہیں گھبراتے چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں رومی حکومت سے لڑائی ہوئی۔وہ حکومت بڑی زبردست تھی اور اُس سے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا ایسا ہی تھا جیسے افغانستان انگریزی حکومت سے لڑائی شروع کر دے مگر با وجود اتنی زبر دست حکومت کے ساتھ جنگ جاری ہونے کے جب حضرت عمرؓ کے سامنے یہ سوال پیش ہوا کہ کسری کی فوجوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں سرگرمی دکھانی شروع کر دی ہے اور اُن کے بہت سے علاقے جو مسلمانوں کے قبضہ میں تھے اُن میں بغاوت اور سرکشی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں تو وہی عمر جو ابو بکر کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ اگر ہم ایک ہی وقت میں ایک طرف جیش اسامہ کو رومیوں کے مقابلہ میں بھیج دیں گے اور دوسری طرف اندرونی باغیوں کا مقابلہ کریں گے تو یہ سخت غلطی ہوگی حکم دیتے ہیں کہ فوراً ایران پر حملہ کر دو۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں دوز بر دست حکومتوں سے کس طرح مقابلہ ہو گا مگر آپ فرماتے ہیں کچھ پرواہ نہیں جاؤ اور مقابلہ کرو۔مسلمان چونکہ اُس وقت رومی حکومت سے جنگ کرنے میں مشغول تھے اس لئے ایران پر مسلمانوں کا حملہ اس قدر دور از قیاس تھا کہ ایران کے بادشاہ کو جب یہ خبریں پہنچیں کہ مسلمان فوجیں بڑھتی چلی آ رہی ہیں تو اُس نے ان خبروں کو کوئی اہمیت نہ دی اور کہا کہ لوگ خواہ مخواہ جھوٹی افواہیں اُڑا رہے ہیں مسلمان بھلا ایسی حالت میں جب کہ وہ پہلے ہی ایک خطر ناک جنگ میں مبتلاء ہیں ایران پر حملہ کرنے کا خیال بھی کر سکتے ہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ تک تو امیرانیوں کی شکست کی بڑی وجہ یہی رہی کہ دارالخلافہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی فوج نہیں آتی تھی اور بادشاہ خیال کرتا تھا کہ لوگ جھوٹی خبر میں اُڑا رہے ہیں مگر جب کثرت اور تواتر کے ساتھ اُسے اس قسم کی خبریں پہنچیں تو اُس نے اپنا ایک جرنیل بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ میرے پاس صحیح حالات کی رپورٹ کرو۔چنانچہ اس نے جب رپورٹ کی کہ مسلمان واقع میں حملہ کر رہے ہیں اور وہ بہت سے حصوں پر قابض بھی ہو چکے ہیں تب اُس نے اُن کے مقابلہ کیلئے فوج بھیجی۔اس سے تم اندازہ لگا لو کہ مسلمانوں کا اس لڑائی میں گو دنا بظاہر کتنا خطر ناک تھا جب کہ اس کے ساتھ ہی وہ رومی لشکروں کا بھی مقابلہ