خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 144

خلافة على منهاج النبوة کیا انہیں سزا دی۔۱۴۴ جلد دوم ۴۸ جیسے داؤد علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ ید اود اِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَينَ النّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ان الَّذِينَ يُضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدَ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ( حضرت داؤد علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے معلوم ہوا کہ یہاں خلافت سے مراد خلافتِ نبوت ہی ہے ) پس تو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کر اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے سیدھے راستہ سے منحرف کر دیں۔یقیناً وہ لوگ جو گمراہ ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہو گا اس لئے ایسے لوگوں کے مشوروں کو قبول نہ کیا کر بلکہ وہی کر جس کی طرف خدا تیری راہنمائی کرے۔ان آیات میں دراصل وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دوسری جگہ فإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ ۴۹ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔بعض لوگوں نے غلطی سے لا تَتَّبِعِ الهَوى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ کے یہ معنی کئے ہیں کہ اے داؤ د ! لوگوں کی ہوا و ہوس کے پیچھے نہ چلنا حالانکہ اس آیت کے یہ معنی ہی نہیں بلکہ اس میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض دفعہ لوگوں کی اکثریت تجھے ایک بات کا مشورہ دے گی اور کہے گی کہ یوں کرنا چاہئے مگر فرمایا تمہارا کام یہ ہے کہ تم محض اکثریت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ جو بات تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے وہ مفید ہے یا نہیں۔اگر مفید ہو تو مان لو اور اگر مفید نہ ہو تو اُسے رڈ کر دو۔چاہے اُسے پیش کرنے والی اکثریت ہی کیوں نہ ہو بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ وہ گناہ والی بات ہو۔پہلی خلافتیں یا تو خلافتِ نبوت پس پہلی خلافتیں یا تو خلافت نبوت تھیں جیسے حضرت آدم اور حضرت داؤد عَلَيْهِمَا السَّلام کی تھیں یا خلافت ملوکیت خلافت تھی اور یا پھر خلافت حکومت تھیں جیسا کہ فرمایا۔واذكروا إذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاء مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ نُوحٍ وَ زَادَكُمْ فِي الخَلْقِ بَشطَةً : فَاذْكُرُوا الا الله لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ٥٠ یعنی اُس وقت کو یاد