خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 140
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۰ جلد دوم اختیار کر رہے ہیں۔صرف اخبارات سے اس قسم کے حالات کا علم نہیں ہو سکتا کیونکہ اخبارات میں جھوٹی خبریں بھی درج ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ ان میں واقعات کو پورے طور پر بیان کرنے کا التزام بھی نہیں ہوتا لیکن ہمارے مبلغ چونکہ دنیا کے اکثر حصوں میں موجود ہیں ، اس کے علاوہ جماعت کے افراد بھی دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ان کے ذریعہ مجھے ہمیشہ سچی خبریں ملتی رہتی ہیں اور میں ان سے فائدہ اُٹھا کر جماعت کی صحیح راہنمائی کرسکتا ہوں۔اطاعت رسول بھی صحیح معنوں پس در حقیقت اقامت صلوۃ بھی بغیر خلیفہ کے نہیں ہو سکتی اسی طرح اطاعت رسول بھی جس کا میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی آطِیعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُول کے الفاظ میں ذکر ہے خلیفہ کے بغیر نہیں ہوسکتی۔کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے ایک رشتہ میں پرویا جائے۔یوں تو صحابہ بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آج کل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں، صحابہؓ بھی روزے رکھتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی روزے رکھتے ہیں، صحابہ بھی حج کرتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں پھر صحابہؓ اور آجکل کے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ یہی فرق ہے کہ وہ اس وقت نمازیں پڑھتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب نماز کا وقت آ گیا ہے، وہ اس وقت روزے رکھتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب روزوں کا وقت آ گیا ہے اور وہ اُس وقت حج کرتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب حج کا وقت آ گیا ہے اور گووہ نماز اور روزہ اور حج وغیرہ عبادات میں حصہ لیکر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تھے مگران کے ہر عمل میں رسول کریم ﷺ کی اطاعت کی روح بھی جھلکتی تھی جس کا یہ فائدہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے ، صحابہؓ اُسی وقت اس پر عمل کرنے کیلئے کھڑے ہو جاتے تھے لیکن یہ اطاعت کی روح آجکل کے مسلمانوں میں نہیں۔مسلمان نمازیں بھی پڑھیں گے ، مسلمان روزے بھی رکھیں گے، مسلمان حج بھی کریں گے مگر ان کے اندر اطاعت کا مادہ نہیں ہو گا کیونکہ اطاعت کا مادہ نظام خلافت کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔پس جب بھی خلافت ہوگی