خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 132

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۲ جلد دوم اس کے یہ معنی ہیں کہ چونکہ اس عام حکم میں خلفائے راشدین بھی شامل ہیں اور دُنیوی حکام بھی اس لئے جب اختلاف ہو تو دیکھو کہ وہ حکام کس قسم کے ہیں۔اگر تو وہ خلفائے راشدین ہیں تو تم ان کے متعلق وہ عمل اختیار کرو جو اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین کے بارہ میں بیان فرمایا ہے اور اگر وہ حکام دُنیوی ہیں تو ان کے بارہ میں تم ان احکام پر عمل کرو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ان کے متعلق بیان کئے ہیں۔دونوں کے متعلق الگ الگ احکام اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ان دونوں قسم کے اُولی الامر کے متعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے الگ الگ قسم کے احکام بیان کئے ہیں یا نہیں۔اگر کئے ہیں تو وہ کیا ہیں۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن دونوں قسم کے اولی الامر کی نسبت دو مختلف احکام بیان کئے ہیں جو یہ ہیں :۔(۱) عبادہ بن صامت سے روایت ہے بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَ الْمَكْرَهِ وَ عَلَى آثَرَةٍ عَلَيْنَا وَ عَلَى أَنْ لَانُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَ عَلَى اَنْ نَّقُولَ بِالْحَقِّ فَأَيْنَمَا كُنَّا لَانَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِم وَ فِي رِوَايَةٍ أَنْ لَّا تُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْراً بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ مَتَّفَقٌ عَلَيْهِ - ۲۲ یعنی ہم نے رسول کریم کی ان شرائط پر بیعت کی کہ جو ہمارے حاکم مقرر ہوں گے ان کے احکام کی ہم ہمیشہ اطاعت کریں گے خواہ ہمیں آسانی ہو یا تنگی اور چاہے ہمارا دل ان احکام کے ماننے کو چاہے یا نہ چاہے بلکہ خواہ ہمارے حق وہ کسی اور کو دلا دیں پھر بھی ہم ان کی اطاعت کریں گے۔اسی طرح ہماری بیعت میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جب ہم کسی کو اہل سمجھ کر اس کے سپر دحکومت کا کام کر دیں گے تو اس سے جھگڑا نہیں کریں گے اور نہ اس سے بحث شروع کر دیں گے کہ تم نے یہ حکم کیوں دیا وہ دینا چاہئے تھا۔ہاں چونکہ ممکن ہے کہ وہ حکام کبھی کوئی بات دین کے خلاف بھی کہہ دیں اس لئے اگر ایسی صورت ہو تو ہمیں ہدایت تھی کہ ہم سچائی سے کام لیتے ہوئے انہیں اصل حقیقت سے آگاہ کر دیں اور خدا کے دین کے