خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 106
خلافة على منهاج النبوة 1۔7 جلد دوم اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کے خلاف اور زیادہ منصوبے کرنے شروع کر دیئے اور مولوی محمد علی صاحب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میری اس قدر ہتک کی گئی ہے کہ اب میں قادیان میں نہیں رہ سکتا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ان دنوں مولوی محمد علی صاحب سے بہت تعلق رکھا کرتے تھے۔ایک دن وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اول کے پاس پہنچے۔میں بھی اتفاقا وہیں موجود تھا اور آتے ہی کہا کہ حضور ! غضب ہو گیا آپ جلدی کوئی انتظام کریں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے اور میں اب قادیان میں کسی صورت میں نہیں رہ سکتا۔آپ جلدی کریں اور کسی طرح مولوی محمد علی صاحب کو منانے کی کوشش کریں ، ایسا نہ ہو کہ وہ چلے جائیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب ! مولوی صاحب سے جا کر کہہ دیجئے کہ کل کے آنے میں تو ابھی دیر ہے آپ جانا چاہتے ہیں تو آج ہی قادیان سے چلے جائیں۔ڈاکٹر صاحب جو یہ خیال کر رہے تھے کہ اگر مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے تو نہ معلوم کیا زلزلہ آ جائے گا اُن کے تو یہ جواب سن کر ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے کہا حضور ! پھر تو بڑا فساد ہوگا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔میں خدا کا قائم کر دہ خلیفہ ہوں میں ان دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں۔اس جواب کو سن کر مولوی محمد علی صاحب بھی خاموش ہو گئے اور پھر انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں قادیان سے جانے کے ارادے کا اظہار نہیں کیا۔البتہ اندر ہی اندر کھچڑی پکتی رہی اور کئی طرح کے منصوبوں سے اُنہوں نے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔یہ بہت لمبے واقعات ہیں جن کو تفصیلاً بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری میں حضرت خلیفہ اول جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو طبعاً ہم سب کے قلوب میں ایک ایک اشتہار شائع کرنے کی تجویز کے چھینی تھی اور ہم نہایت ہی افسوس کے ساتھ آنے والی گھڑی کو دیکھ رہے تھے اور چونکہ آپ کی بیماری کی وجہ سے لوگوں کی عام نگرانی