خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 105
خلافة على منهاج النبوة ۱۰۵ جلد دوم جب آپ تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو بجائے اس کے کہ اُس جگہ کھڑے ہوتے جو آ کیلئے تجویز کی گئی تھی آپ اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بنوایا تھا اور لوگوں پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ اپنے پیر کی بنائی ہوئی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں۔اس کے بعد آپ نے مسئلہ خلافت پر قرآن وحدیث سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں خلیفہ کا کام صرف نمازیں پڑھا دینا ، جنازے پڑھا دینا اور لوگوں کے نکاح پڑھا دینا ہے اُسے نظام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔یہ کہنے والوں کی سخت گستاخانہ حرکت ہے۔یہ کام تو ایک مُلاں بھی کر سکتا ہے اس کیلئے کسی خلیفہ کی کیا ضرورت ہے۔وہ لوگ جنہوں نے یہ تقریر سنی ہوئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تقریر اتنی دردانگیز اور اس قدر جوش سے لبریز تھی کہ لوگوں کی روتے روتے گھاگھی بندھ گئی۔خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ علی صاحب سے دوبارہ بیعت یعقوب علی صاحب سے کہا کہ دوبارہ بیعت کرو۔چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی۔میرا ذہن اُس وقت اِدھر منتقل نہیں ہوا کہ ان سے بیعت ان کے جرم کی وجہ سے لی جا رہی ہے چنانچہ میں نے بھی بیعت کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا مگر حضرت خلیفہ اول نے میرے ہاتھ کو پیچھے ہٹا دیا اور فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے تو ایک جُرم کیا ہے جس کی وجہ سے دوبارہ ان سے بیعت لی جارہی ہے مگر تم نے کونسا جرم کیا ہے۔شیخ یعقوب علی صاحب سے اس موقع پر جو بیعت لی گئی وہ اس لئے لی گئی تھی کہ شیخ صاحب نے ایک جلسہ کیا تھا جس میں اُن لوگوں کے خلاف تقریریں کی گئی تھیں جنہوں نے نظام خلافت کی تحقیر کی تھی اور گو یہ اچھا کام تھا مگر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا جب ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ خود بخو دا لگ جلسہ کرتے۔غرض ان تینوں سے دوبارہ بیعت لی گئی اور انہوں نے سب کے سامنے تو بہ کی مگر جب جلسہ ختم ہو گیا