خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page vii

1914ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود خلافت کے منصب پر فائز ہوئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے معا بعد سے ہی خلافت کے قیام و استحکام کے سلسلہ میں آپ نے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔بالخصوص آپ نے اپنی وفات (1965ء) تک اپنی خلافت کے ساڑھے اکاون برس سے زائد عرصہ میں نظام خلافت کے استحکام کے سلسلہ میں بہت سے عملی اقدامات فرمائے۔آپ نے اپنے خطبات ، خطابات، کلمات طیبات، نہایت مدلل اور پر اثر تحریرات کے ذریعہ خلافت کی عظمت و اہمیت، اس کی غرض و غایت اور اس کی عظیم الشان برکات کو نهایت تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔صد سالہ خلافت جوبلی (2008ء) کے تاریخی موقع کی مناسبت سے ادارہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضرت مصلح موعود خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی جملہ تصانیف، خطبات جمعہ ، خطابات، مجالس عرفان، مجالس شوری، تفاسیر اور غیر مطبوعہ تحریرات سے خلافت کے موضوع پر بیان فرمودہ مواد کو اکٹھا کر کے تین جلدوں میں مرتب کرنے کی سعادت و توفیق پائی۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کاوش کو بہت پسند فرمایا اور اس کتاب کے لیے خلافت علی منہاج النبوۃ کا نام منظور فرمایا۔حضور انور ایدہ اللہ کے ارشاد پر تین جلدوں پر مشتمل یہ کتاب یو کے سے شائع کی جار ہی ہے۔