خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 44

خلافة على منهاج النبوة ۴۴ جلد اول دعا کی اور اس دعا ہی میں اُن اغراض کو عرض کیا جو انبیاء کی بعثت سے ہوتی ہیں اور یہ چار کام ہیں۔میں نے غور کر کے دیکھا ہے کہ کوئی کام اصلاح عالم کا نہیں جو اس سے باہر رہ جاتا ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح دنیا کی تمام اصلاحوں کو اپنے اندر رکھتی ہے۔انبیاء علیہم السلام کے اغراض بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت خلفاء کا کام آسان ہے کہ خلفاء کا بھی یہی کام ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری کرے پس جو کام نبی کا ہوگا وہی خلیفہ کا ہوگا۔اب اگر آپ غور اور تدبر سے اس آیت کو دیکھیں تو ایک طرف نبی کا کام اور دوسری طرف خلیفہ کا کام بھل جائے گا۔میں نے دعا کی تھی کہ میں اس موقع پر کیا کہوں تو اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس آیت کی طرف پھیر دی اور مجھے اسی آیت میں وہ تمام باتیں نظر آئیں جو میرے اغراض اور مقاصد کو ظاہر کرتی ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ اس موقع پر چند استدلال پیش کر دوں۔شکر ربانی بر جماعت حقانی مگر اس سے پہلے کہ میں استدلال کو پیش کروں میں خدا تعالیٰ کا شکر کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کے دیئے جانے کا انبیاء سے وعدہ الہی ہوتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ چاروں طرف سے محض دین کی خاطر ، اسلام کی عزت کے لئے اپنا روپیہ خرچ کر کے اور اپنے وقت کا حرج کر کے احباب آئے ہیں۔میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے مخلص دوستوں کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا وہ بہتر سے بہتر بدلے دے گا کیونکہ وہ اس وعدہ کے موافق آئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تھا۔اس لئے جب کل میں نے درس میں ان دوستوں کو دیکھا تو میرا دل خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر گیا کہ یہ لوگ ایسے شخص کے لئے آئے ہیں جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ چالباز ہے ( نَعُوذُ بِاللهِ ) اور پھر میرے دل میں اور بھی جوش پیدا ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہ میرے دوستوں کے بُلا نے ہی پر جمع ہو گئے ہیں۔اس لئے آج رات کو میں نے بہت دعائیں کیں اور اپنے رب سے یہ عرض کیا کہ الہی ! میں تو غریب ہوں میں ان لوگوں کو کیا دے سکتا ہوں حضور ! آپ ہی