خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 43

خلافة على منهاج النبوة ۴۳ جلد اول منصب خلافت ( نمائندگان جماعت سے ایک اہم خطاب فرموده ۱۲ / اپریل ۱۹۱۴ء ) أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهُ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة ويُزَكِّيهِمْ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ دعائے ابراہیم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک پیشگوئی کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے رنگ میں ہے وہ دعا جو ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر مکہ کے وقت کی۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ابْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة ويُزَكِّيهِمْ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الحَکیمُ یہ دعا ایک جامع دعا ہے اس میں اپنی ذریت میں سے ایک نبی کے مبعوث ہونے کی دعا کی۔پھر اسی دعا میں یہ ظاہر کیا کہ انبیاء علیہم السلام کے کیا کام ہوتے ہیں، ان کے آنے کی کیا غرض ہوتی ہے؟ فرمایا الہی ! ان میں ایک رسول ہو ، انہی میں سے ہو۔انبیاء کی بعثت کی غرض وہ رسول جو مبعوث ہواس کا کیا کام ہو؟ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ایت اس کا پہلا کام یہ ہو کہ وہ تیری آیات ان پر پڑھے۔دوسرا كام وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة اُن کو کتاب سکھائے اور تیسرا کام یہ ہو کہ حکمت سکھائے۔چوتھا کام دیزکیھم اُن کو پاک کرے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں مبعوث ہونے والے ایک رسول کے لئے