خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 449
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۹ جلد اول نے بجائے اتفاق پر زور دینے کے پچھلے قصوں کو دُہرانا شروع کیا اور لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ وہ خواجہ صاحب پر یا ان کے دوسرے ہم خیالوں پر کیوں حملہ کرتے ہیں اور خوب زجر و توبیخ کی۔لوگ میرے لحاظ سے بیٹھے رہے ورنہ ممکن تھا کہ بجائے فساد کے رفع ہونے کے ایک نیا فساد کھڑا ہو جاتا اور اسی مجلس میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی۔آخر میں کچھ کلمات اتفاق کے متعلق بھی انہوں نے کہے مگر وہ بھی سخت لہجہ میں جس سے لوگوں میں زیادہ نفرت پیدا ہوئی اور افتراق میں ترقی ہوئی۔ششدر چونکہ حضرت خلیفتہ المسیح کی طبیعت کچھ دنوں سے جماعت کے اتحاد کی کوششیں زیادہ علیل تھی اور لوگ نہایت افسوس کے ساتھ آنے والے خطرہ کو دیکھ رہے تھے طبعاً ہر ایک شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہورہا تھا کہ اب کیا ہوگا ؟ میں تو برابر دعاؤں میں مشغول تھا اور دوسرے دوستوں کو بھی دعاؤں کے لئے تاکید کرتا تھا۔اُس وقت اختلافی مسائل میرے سامنے نہ تھے بلکہ جماعت کا اتحاد مدنظر تھا اور اس کے زائل ہو جانے کا خوف میرے دل کو کھا رہا تھا۔چنانچہ اس امر کے متعلق مختلف ذی اثر احمد یوں سے میں نے گفتگوئیں کیں۔عام طور پر ان لوگوں کا جو خلافت کے مقر تھے اور نبوت مسیح موعود علیہ السلام کے قائل تھے یہی خیال تھا کہ ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی جاسکتی جس کے عقائد ان عقائد کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے احمدیت کے مٹنے کا اندیشہ ہے۔مگر میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اتحاد سب سے ضروری ہے۔شخصیتوں کے خیال سے اتحاد کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ خدانخواستہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات پر ا گرفتنہ کا اندیشہ ہو تو ہمیں خواہ وہ لوگ تھوڑے ہی ہیں ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے کیونکہ میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی ہمارا ہم عقیدہ شخص خلیفہ ہوا تو وہ لوگ اس کی بیعت نہیں کریں گے اور جماعت میں اختلاف پڑ جائے گا اور جب میں ان میں سے کسی کی بیعت کرلوں گا تو امید ہے کہ میرے اکثر احباب اس کی بیعت اختیار کر لیں گے اور فساد سے جماعت محفوظ رہے گی۔چنانچہ ایک دن عصر کے بعد جب کہ مولوی سید محمد سرور صاحب جو ہماری جماعت کے سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہیں