خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 434
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۴ جلد اول دوسرا خط مرزا یعقوب بیگ صاحب ان کی صدر انجمن کے جنرل سیکرٹری نام کا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس خط کا مضمون شیخ رحمت اللہ صاحب اور سید محمد حسین شاہ صاحب کے علم سے اور ان کی پسندیدگی کے بعد بھیجا گیا ہے۔کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ شیخ صاحب اور شاہ صاحب کی طرف سے بھی مضمون واحد ہے۔حضرت اخی المکرم - السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ سر دست تو قادیان کی مشکلات کا سخت فکر ہے۔خلیفہ صاحب کا تلوّنِ طبع بہت بڑھ گیا ہے اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے۔اگر اس میں ذرہ بھی تخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہوتو برافروختہ ہو جاتے ہیں۔سب حالات عرض کئے گئے مگر ان کا جوش فرو نہ ہوا اور اشتہار جاری کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔آپ فرما دیں ہم اب کیا کر سکتے ہیں ؟ ان کا منشاء یہ ہے کہ انجمن کا لعدم ہو جائے اور ان کی رائے سے ادنی تخالف نہ ہو۔مگر یہ وصیت کا منشاء نہیں۔اس میں یہی حکم ہے کہ تم سب میرے بعد مل جل کر کام کرو۔شیخ صاحب اور شاہ صاحب بعد سلام مسنون مضمون واحد ہے۔خاکسار مرزا یعقوب بیگ ۱۲۹/۹/۶۱۹۰۹ ۵۔نہایت واضح اور صاف بات اس امر کی تائید میں کہ یہی لوگ ان ٹریکٹوں کے شائع کرنے والے ہیں یہ ہے کہ ان ٹریکٹوں کے شائع ہوتے ہی مینیجر پیغام صلح سید انعام اللہ شاہ اور پیغام صلح کے انتظامی کاموں کی روح رواں بابو منظو ر الہی دونوں کے دستخط سے ایک تحریر پیغام صلح کے ۱۶ نومبر کے پرچہ میں شائع ہوئی۔جس میں اس الزام کو رڈ کرتے ہوئے کہ انصار اللہ ہم دونوں کو ٹریکٹوں کا شائع کرنے والا قرار دیتے ہیں لکھا ہے۔جو ٹریکٹ ہم نے دیکھے ہیں ان میں ذرا شک نہیں کہ اکثر باتیں ان کی سچی ہیں۔جہاں تک کہ ان کے متعلق ہمارا علم ہے اور بعض باتیں ہمارے علم اور ہمارے مشاہدہ سے بالا تر ہیں اس لئے ان کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔جب ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر بات کے ساتھ پورا پورا ایمان ہے تو دیگر فروعی باتوں کے اختلاف یا ٹریکٹ ہائے کی بیان کردہ باتوں کے ساتھ اتفاق رائے رکھنے کے جرم میں اگر ہماری نسبت غلط فہمی پھیلائی جانی لاہوری