خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 433

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۳ جلد اول میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سن ہی نہیں سکتے۔وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پروائی کرتے ہوئے شخصی و جاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے۔سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ٹلے پر نہ ٹلے۔وہ سلسلہ جو کہ حضرت اقدس کے ذریعہ بنایا تھا اور جو کہ بڑھے گا اور ضرور بڑھے گا وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے۔۔اہل الرائے اصحاب اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں اور حضرت مرزا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے مرتے ہی سب نے آپ کے احسانات کو بھلا ، آپ کے رتبہ کو بھلا ، آپ کی وصیت کو بھلا دیا اور پیر پرستی جس کی بنیاد کو اکھاڑنے کے لئے یہ سلسلہ اللہ نے مقرر کیا تھا قائم ہو رہی ہے اور عین یہ شعر مصداق اس کے حال کا ہے۔بیکسے شد دین احمد پیچ خولیش دیار نیست ہر کسے درکار خود بادین احمد کار نیست کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ وصیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ یہ تو اللہ کی وحی کے ماتحت لکھی گئی تھی کیا یہ پھینک دینے کے لئے تھی؟ اگر پوچھا جاتا ہے تو ارتداد کی دھمکی ملتی ہے۔اللہ رحم کرے۔دل سخت بے کلی کی حالت میں ہے۔حالات آمدہ از قادیان سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب فرماتا ہے کہ بمب کا گولہ دس دن تک چھوٹنے کو ہے جو کہ سلسلہ کو تباہ و چکنا چور کر دے گا۔اللہ رحم کرے۔تکبر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے۔نیک ظنی ، نیک ظنی کی تعلیم دیتے دیتے بدظنی کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی۔ایک شیعہ کی وجہ سے سلسلہ کی تباہی۔اللہ رحم کرے۔یا الہی ! ہم گنہگار ہیں تو اپنے فضل و کرم سے ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔اپنی خاص رحمت میں لے لے اور ہم کو ان ابتلاؤں سے بچالے آمین۔اور کیا لکھوں۔بس حد ہورہی ہے وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص تائید الہی ہو تا کہ یہ اُس کا سلسلہ اس صدمہ سے بچ جاوے۔آمین۔سب برادران کی خدمت میں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ اور دعا کی درخواست۔خاکسار سید محمد حسین