خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 416

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۶ جلد اول ہے۔میاں صاحب نو جوان ہیں جوش میں وقت کو نہیں دیکھتے ایسا نہ ہو کہ کوئی خون ہو جائے اور ہم لوگ بدنام ہوں۔اب بھی آپ فورا ایک ایسے بزرگ کو جو ضرورتِ زمانہ کو سمجھے بھیج دیجئے۔جب میں واپس آیا تو حضرت خلیفہ اسیح نے مجھے اس خط کے مضمون پر آگاہ کیا اور اس خط پر سخت نفرت کا اظہار فرمایا۔لکھنؤ میں دو لیکچروں کی تجویز تھی ایک لیکچر کے بعد گو مخالفین کی طرف سے بھی کچھ روک ہوئی مگر اپنی جماعت نے بھی اس روک کو ایک عذر بنا کر مزید کوشش سے احتراز کیا اور دوسرا لیکچر رہ گیا مگر ہم نے ملاقاتوں میں خوب کھول کھول کر تبلیغ کی۔بنارس میں بھی اسی طرح ہوا۔یہاں کی جماعت اُس وقت اپنے آپ کو میری ہم خیال ظاہر کرتی تھی مگر اس کا بھی یہی اصرار تھا کہ لیکچر عام ہو اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ خواجہ صاحب کے لیکچر کامیاب ہو چکے ہیں ایسا نہ ہو یہ لیکچر کا میاب نہ ہوں تو اس کے مقابلہ میں سبکی ہو۔مگر میں نے نہ مانا اور سلسلہ کے متعلق لیکچر دیئے۔لوگ کم آتے مگر میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔تعجب ہے کہ جبکہ لکھنؤ کی جماعت جو اُس وقت میرے خیالات سے غیر متفق تھی حضرت خلیفہ اول کی وفات پر بیعت میں داخل ہوئی۔جماعت بنارس بیعت سے باہر رہی۔شاید یہ سزا تھی اُس دنیا داری کے خیالات کی جوان کے اندر پائے جاتے تھے اور جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔غرض جماعت کی حالت اُس وقت عجیب ہو رہی تھی۔ایک طرف تو اس کے دل محسوس کر رہے تھے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر اس طرح ترک کر دیا گیا تو آہستہ آہستہ سلسلہ مفقود ہو جائے گا۔دوسری طرف خواجہ صاحب کے طریق تبلیغ کے بعد ان کو یہ خوف تھا کہ لوگ سلسلہ کا ذکر سننے کے لئے شاید آویں گے ہی نہیں۔اور اگر آدیں گے تو اتنے کم کہ خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء کو یہ کہنے کا موقع مل جاوے گا کہ ہمارا طر ز تبلیغ درست ہے کہ جس کے باعث لوگ شوق سے سننے کیلئے آ جاتے ہیں آخر ہوتے ہوتے تعلق کی زیادتی پر احمدی بھی ہو جاویں گے۔پس وہ شش و پنج کی حالت میں تھے اور اس طریق کو نا پسند کرتے ہوئے اس طریق کی نقل کو اپنے کام کیلئے ضروری سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اگر لوگوں پر یہ ثابت ہو جاوے کہ احمدیوں میں خواجہ صاحب سے زیادہ واقف اور