خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 23
خلافة على منهاج النبوة ۲۳ جلد اول مخالفت میں صبر اور استقلال سے کام لیتے ہیں اور ان کو آیات الہی کے ساتھ کامل یقین ہوتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا اللِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْرِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وليبة لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ل مومنوں میں سے اللہ خلیفے بناتا رہے گا۔ان کے ذریعہ سے دینِ اسلام کی تمکین کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔وہ عبادت الہیہ کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔کیا اب یہ ظلم صریح نہیں کہ اب کسی مجدد یا امام یا خلیفہ کی ضرورت نہیں ہے حالانکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خلیفہ بناتا رہے گا جب کہ قانونِ قدرت جو خدا ئی فعل ہے صاف بتا رہا ہے کہ بارانِ الہی کی ہر زمانہ میں ضرورت ہے۔جب کہ قرآن مجید جو خدائی قول ہے صاف بتا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے خلیفہ آیا کرے گا تو کس مسلمان کا گردہ ہے کہ وہ جسارت اور جرات سے کہے کہ اب ہمیں کسی امام کی ضرورت نہیں ہے کافی ہے مانے کو اگر (الفضل ۷ جنوری ۱۹۱۴ء ) 66 اہل کوئی ہے۔“ الصف: ۷ ٣،٢ البقرة: ٣١ ابا: انکار، نفرت، پرہیز ، اختلاف (فیروز اللغات اردو جامع صفحه ۵۰ مطبوعہ فیروز سنز لاہور ۲۰۱۰ء) الاعراف: ۱۳ الكهف: ۵۱ ص: ۷۶ الاعراف: ۱۴ ص: ۲۷ ا محمد: ۲۵ ال المائدة: 29 النور : ۵۶ ۱۳ ال عمران ۷۴ :۱۴ محک : کسوٹی ( فیروز اللغات اردو جامع صفحه ۴ ۱۲۱ مطبوعہ فیروز سنز لاہور ۲۰۱۰ء) ۱۵ جوائی: مدینہ کے قریب ایک جگہ الانبياء: ۳۱ 19 تالی: تلاوت کرنے والا كا يوسف: ١٠٦ ۱۸ ال عمران: ۱۶۵