خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 22
خلافة على منهاج النبوة ۲۲ جلد اول لوگوں کا کیا حق ہے کہ وہ کہیں کہ ہمیں کسی امام یا مجدد کی ضرورت نہیں ہے۔جب کہ دنیا کے علوم کے سیکھنے کے لئے اُستاد سے مدد لیتے ہیں۔اگر ان کی یہ دلیل اور وسیع کی جاوے تو پھر قرآن کے معلموں اور قاریوں اور مولویوں کی کیا ضرورت ہے۔کیوں ہم اپنے بچوں کو کسی مولوی ، یا قاری یا حافظ کے پاس بھیجیں کہ وہ ان سے جا کر قرآن کے الفاظ پڑھے۔اگر قرآن کے الفاظ سیکھنے میں انسانوں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا اس کے معانی سیکھنے کے لئے خدائی ماموروں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی؟ کسی کا کیا حق ہے کہ وہ کہے کہ ہمیں کسی مجدد یا امام یا ماً مور من اللہ انسان کی ضرورت نہیں ہے جب کہ خود قرآن شریف اور احادیث صحیحہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اپنی طرف سے ایسے بندے ۱۸ مبعوث فرماتا رہے گا جو کہ اس کے باغ کی آبیاری کرتے رہیں گے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تین فرائض منصبی قرآن شریف نے قرار دیئے ہیں۔لقَد من الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايته ويزكيهم وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لفِي ضَلالٍ مُّبِينِ۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان اور فضل کیا جب ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔وہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور دعاؤں سے ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور ضرور وہ اس سے پہلے گھلی گمراہی میں تھے۔سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر صرف کتاب ہی کافی ہو تو پھر تالی و سکی کیا ضرورت ہے اور معلم کی کیا ضرورت ہے اور مزکی کی کیا ضرورت ہے جب کہ قرآن شریف کے عین نزول کے وقت تالی ، معلم اور مزکی کی ضرورت تھی۔تو پھر اب اس قدر مرورِ زمانہ کے بعد کیوں ان کی ضرورت نہیں رہے گی۔اگر عام مولوی تالی کا کام دے سکتے ہیں تو پھر مز کی اور معلم کون بنے۔مزکی اور معلم بننے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آئمہ اور خلفاء اور مامورين من اللہ کا وجود باجود قائم فرمایا ہے اور ائمہ اور خلفاء کے کام بھی قرآن شریف میں ذکر فرما دیئے ہیں۔وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوانت وَكَانُوا بِايَتِنا يُوقنون - امام اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں اور