خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 388
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۸ جلد اوّل انکار بھی کیا اور پیش کیا کہ خلافت کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے۔مگر جماعت کی عام رائے کو دیکھ کر اور اُس وقت کی بے سروسامانی کو دیکھ کر دب گئے اور بیعت کر لی۔بلکہ اُس اعلان پر بھی دستخط کر دیئے جس میں جماعت کو اطلاع دی گئی تھی کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب الوصیت کے مطابق خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔مگر ظاہری بیعت کے باوجود دل نے بیعت کا اقرار نہیں کیا اور اپنے ہم خیالوں اور دوستوں کی مجلس میں اس قسم کے تذکرے شروع کر دیئے گئے جن میں خلافت کا انکار ہوتا تھا اور اس طرح ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی بنالی۔خواجہ کمال الدین سب سے بہتر شکار تھا جو مولوی محمد علی صاحب کو ملا ( کیونکہ وہ خوداس فکر میں تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کو اپنا ہم خیال بنائیں اور اس کی سب سے بہتر صورت یہی تھی کہ وہ خود مولوی محمد علی صاحب کے خاص خیالات میں ان کے شریک ہو جاویں ) چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کو ابھی پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کی موجودگی میں مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب ! آپ کا خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جب کہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی جبکہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا کہ بیعت کے بعد تم کو میری پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریر کوسن کر ہم نے بیعت کی تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے۔میرے اس جواب کو سن کر خواجہ صاحب بات کا رخ بدل گئے اور گفتگو اسی پر ختم ہوگئی۔ان ہی ایام میں مولوی محمد علی صاحب کو بعض باتوں پر والدہ صاحبہ ( حضرت اماں جان ) سے بعض شکایات پیدا ہوئیں وہ سچی تھیں یا جھوٹی مگر مولوی صاحب کے دل میں گھر کر گئیں اور آپ نے ان شکایتوں کا اشارہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں بھی ذکر کر دیا۔چونکہ خلافت کا مجھے مؤید دیکھا گیا اس لئے اس ذاتی بغض کی وجہ سے یہ خیال کر لیا گیا کہ یہ خلافت کا اس لئے قائل ہے کہ خود خلیفہ بننا چاہتا ہے۔پس خلافت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان خصوصاً میری مخالفت کو بھی ایک مدعائے خاص قرار دیا گیا اور ہمیشہ اس کیلئے ایسی تدبیریں ہوتی رہیں جن کے ذکر کرنے کی نہ یہاں گنجائش ہے