خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 387
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۷ جلد اول ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا جاوے اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں“۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس فوری اور سخت تنبیہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ جماعت میں سے کسی اور شخص کو اُس وقت عبد الحکیم کے خیالات کی تائید اور تصدیق کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ اندر ہی اندر بعض لوگوں کے دل میں یہ خیالات گھر کر چکے تھے اور ان لوگوں کے سردار خواجہ صاحب تھے۔واقعات بتاتے ہیں کہ خواجہ صاحب کا ایمان اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔بعد کی ان کی تحریرات سے ظاہر ہے کہ وہ ان خیالات کا شکار ہو گئے تھے اور اب سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ یہی عقائد پھیلا رہے ہیں۔خواجہ صاحب کا مولوی محمد علی جہاں تک میرا خیال ہے مولوی محمد علی صاحب شروع میں ان عقائد کی تائید میں نہ تھے مگر صاحب کو اپنا ہم خیال بنانا خواجہ صاحب نے ان کو ایک کارآمد ہتھیار دیکھ کر برابر اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی اور آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زبانِ طعن کھولنے کی جرات دلا دی۔گو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات تک ان کے ایمان میں زیادہ تزلزل واقع نہیں ہوا تھا مگر آپ کی وفات کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے بہت بڑا تزلزل مولوی صاحب کے خیالات میں آنا شروع ہوا۔اور اس کا باعث بعض بہت ہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوئیں۔مولوی محمد علی صاحب کی طبیعت شروع سے ہی نہایت غصہ والی رہی ہے اور وہ کبھی اپنے خصم کی بات سن کر برداشت کرنے کے قابل ثابت نہیں ہوئے اور ایک دفعہ جب ان کے دل میں غصہ پیدا ہو جائے تو اُس کا نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور وہ اپنے مخالف کو ہر طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول سے انجمن کے بعض کا موں میں مولوی محمد علی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں رنبخش پیدا ہو جاتی تھی۔خلافت اولی میں مولوی محمد علی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر آپ کو خلیفہ تجویز کیا گیا تو مولوی صاحب کے خیالات اور کوششیں صاحب کو بہت کر امعلوم ہوا اور آپ نے