خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 379

خلافة على منهاج النبوة جلد اول ذریعہ ایک انسان خدا سے نور پا کر دوسروں کو منور کرتا ہے۔اور خلافت نیابت مامورین اس طرح کہ اس انتظام اور نگرانی سے کمزوروں کی بھی حفاظت ہوتی جاتی ہے۔پس ان دونوں قسم کی خلافتوں میں برکات ہیں اور دونوں روحانی ترقیات کا باعث ہیں اور دونوں کے بغیر روحانیت مفقود ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب خلافت کا سلسلہ ٹوٹا تو پھر اسلام کو کوئی نمایاں ترقی نہیں ہوئی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو خلافتیں تھیں ان میں عظیم الشان تغیر ہوئے۔قوموں کی قومیں اسلام میں داخل ہو گئیں اور اسلام بڑی سرعت کے ساتھ پھیل گیا۔لیکن جب روحانی خلافت کا سلسلہ نہ رہا تو اسلام کی ترقی بھی رُک گئی یا پھر ان لوگوں کے ذریعہ کسی قدر ترقی ہوئی جو خدا سے الہام اور وحی پا کر اسلام کی خدمت کے لئے کھڑے ہوئے۔تو روحانی خلافت کے بغیر اسلام کو کوئی ترقی نہ ہوئی بلکہ تنزل ہوتا رہا۔آج بھی لوگ خلافت کا شور ڈال رہے ہیں اور خدا کی قدرت ہے چند ہی سال پہلے جو لوگ ہم پر اس وجہ سے شرک کا الزام لگاتے تھے کہ ہم خلافت کے قائل ہیں اور کہتے تھے کہ خلافت کے مٹانے کا وقت آگیا ہے چنانچہ وہی ٹریکٹ جو اظہار الحق کے نام سے شائع کیا گیا اس کے مضمون کی بنیاد ہی اسی امر پر رکھی گئی تھی کہ ہر ایک مامور کسی خاص کام کے لئے آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانہ میں اسی لئے آئے کہ ہر قسم کی شخصی حکومت ا مٹا کر جمہوری حکومت قائم کریں۔یہ ٹریکٹ لاہور کے جن لوگوں کی مرضی اور منشاء کے ماتحت شائع ہوا تھا آج وہی کہہ رہے ہیں کہ خلافت ٹرکی ضرور قائم رہنی چاہئے اور یہ مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے۔کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے جس سے اس میں دست اندازی سمجھی جائے۔اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو مجبور کر کے ان کے مونہوں سے وہی باتیں نکلوائی ہیں جن کی بناء پر ہم سے اختلاف کر کے علیحدہ ہوئے تھے تا کہ معلوم ہو جائے کہ ان کے علیحدہ ہونے کی وجہ دنیا وی اغراض ہی تھیں دینی نہ تھیں۔کیونکہ اُس وقت جب انہوں نے خلافت کے مسئلہ کو اپنی اغراض کے خلاف دیکھا تو اس کے مٹانے کے درپے