خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 348
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۸ جلد اول ایسا ہی اس وقت میں ہوا۔اس کے بعد مضمون میں سے کچھ عبارت نقل کر کے لکھا ہے کہ :۔میں نے اس مضمون کو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ خصوصاً اس وجہ سے نہیں ٹھہرایا کہ ان دلائل کو کوئی مخالف تو ڑ نہیں کر سکتا۔یہ دلائل پہلے بھی کئی دفعہ پیش ہو چکے ہیں مگر اس دلیل میں سے جو دلیل میں سلسلہ کی صداقت پر گواہ کے طور پر اس وقت گل مخالفین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں وہ اس مضمون کا آخری حصہ ہے جس کو میں نے صاحبزادہ کے اپنے الفاظ میں نقل کیا ہے۔اس وقت صاحبزادہ کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور اُمنگیں کیا ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی کا خیال ان کے دلوں میں ہو گا۔مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے۔صرف اس موقع پر نہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر موقع پر یہ دلی جوش ان کا ظاہر ہو جاتا ہے۔چنانچہ ابھی میر محمد اسحق کے نکاح کی تقریب پر چند اشعار انہوں نے لکھے تو ان میں یہی دعا ہے کہ اے خدا تو ان دونوں اور ان کی اولادکو خادم دین بنا۔برخوردار عبدالحی کی آمین کی تقریب پر اشعار لکھے تو ان میں یہی دعا بار بار کی ہے کہ اُسے قرآن کا سچا خادم بنا۔ایک اٹھارہ برس کے نو جوان کے دل میں اس جوش اور ان اُمنگوں کا بھر جانا معمولی امر نہیں کیونکہ یہ زمانہ سب سے بڑھ کر کھیل کو د کا زمانہ ہے۔اب وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں؟ اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افترا ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا ؟ جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو چاہیے تھا کہ گندا ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی۔سے یہ ریویو مولوی محمد علی صاحب نے اپنے قلم سے لکھا۔عجیب بات ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں مولوی محمد حسین صاحب نے ریو یولکھ کر