خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 347
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۷ جلد اوّل اس زمانہ میں کسی نبی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور پھر زمانہ کی موجودہ خطر ناک حالت ثابت کر کے بتایا کہ اس وقت پہلے کی نسبت زیادہ ضرورت ہے اور حضرت مرزا صاحب اس زمانہ میں خدا کی طرف سے مخلوق کی ہدایت کیلئے مبعوث ہوئے ہیں۔یہ یہ مضمون ۱۹۰۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں شائع ہوا اور حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے اسے پڑھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا اور خواجہ صاحب اور محمد علی صاحب کو کہا کہ اس مضمون کو ضرور پڑھو۔پھر مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ تفخیذ الاذہان کا ریویو کرتے ہوئے اسی مضمون کے متعلق لکھا۔اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتا ہوں جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔خلاصه مضمون یہ ہے کہ جب دنیا میں فساد پیدا ہو جاتا ہے اور لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ کو چھوڑ کر معاصی میں بکثرت مبتلاء ہو جاتے ہیں اور مردار دنیا پر گدوں کی طرح گر جاتے ہیں اور آخرت سے بالکل غافل ہو جاتے ہیں تو ایسے وقت میں ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اُن ہی لوگوں میں سے ایک نبی کو مامور کرتا ہے کہ وہ دنیا میں سچی تعلیم پھیلائے اور لوگوں کو خدا کی حقیقی راہ دکھائے۔پر لوگ جو معاصی میں بالکل اندھے ہوئے ہوتے ہیں وہ دنیا کے نشہ میں مخمور ہونے کی وجہ سے یا تو نبی کی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور یا اُسے دکھ دیتے ہیں اور اس کے ساتھیوں کو ایذا ئیں پہنچاتے ہیں اور اس سلسلہ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔مگر چونکہ وہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے انسانی کوششوں سے ہلاک نہیں ہوتا۔بلکہ وہ نبی اس حالت میں اپنے مخالفین کو پیش از وقت اطلاع دے دیتا ہے کہ آخر کار وہی مغلوب ہوں گے اور بعض کو ہلاک کر کے خدا دوسروں کو راہِ راست پر لے آوے گا۔سوالیسا ہی ہوتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔