خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 330
خلافة على منهاج النبوة ۳۳۰ جلد اول عبد اللہ بن سلام کا مفسدوں کو نصیحت کرنا جب یہ لوگ حضرت عثمان کے قتل کا منصوبہ کر رہے تھے حضرت عبداللہ بن سلام جو حالت کفر میں بھی اپنی قوم میں نہایت معزز تھے اور جن کو یہود اپنا سردار مانتے تھے اور عالم بے بدل جانتے تھے تشریف لائے اور دروازہ پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کی اور حضرت عثمان کے قتل سے ان کو منع فرمایا کہ اے قوم! خدا کی تلوار کو اپنے اوپر نہ کھینچو۔خدا کی قسم ! اگر تم لوگوں نے تلوار کھینچی تو پھر اسے میان میں کرنے کا موقع نہ ملے گا ہمیشہ مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہی جاری رہے گا۔عقل کرو آج ای تم پر حکومت صرف کوڑے کے ساتھ کی جاتی ہے۔( عموماً حدودِ شرعیہ میں کوڑے کی سزا دی جاتی ہے ) اور اگر تم نے اس شخص کو قتل کر دیا تو حکومت کا کام بغیر تلوار کے نہ چلے گا۔( یعنی چھوٹے چھوٹے جرموں پر لوگوں کو قتل کیا جاوے گا) یاد رکھو کہ اس وقت مدینہ کے محافظ ملائکہ ہیں۔اگر تم اس کو قتل کر دو گے تو ملائکہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔اس نصیحت سے ان لوگوں نے یہ فائدہ اُٹھایا کہ عبد اللہ بن سلام صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھتکار دیا اور ان کے پہلے دین کا طعنہ دے کر کہا کہ اے یہودن کے بیٹے ! تجھے ان کا موں سے کیا تعلق۔افسوس کہ ان لوگوں کو یہ تو یا د رہا کہ عبداللہ بن سلام یہو دن کے بیٹے تھے لیکن یہ بھول گیا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ایمان لانے پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر ایک مصیبت اور دکھ میں آپ شریک ہوئے۔اور اسی طرح یہ بھی بھول گیا کہ ان کا لیڈر اور ان کو ورغلانے والا حضرت علیؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی قرار دے کر حضرت عثمان کے مقابلہ پر کھڑا کرنے والا عبد اللہ بن سبا بھی یہو دن کا بیٹا تھا بلکہ خود یہودی تھا اور صرف ظاہر میں اسلام کا اظہار کر رہا تھا۔مفسدوں کا حضرت عثمان کو قتل کرنا حضرت عبداللہ بن سلام تو ان لوگوں سے مایوس ہو کر چلے گئے اور اُدھر ان لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ دروازہ کی طرف سے جا کر حضرت عثمان کو قتل کر نا مشکل ہے