خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 16

خلافة على منهاج النبوة جلد اول ہے اور وہ خلیفہ برحق کے آگے سر بسجو د ہو جاتے ہیں اور ابلیس صفت لوگ اس کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتے اور اپنے تئیں بڑا سمجھ بیٹھتے ہیں۔سب سے پہلا گناہ جو دنیا میں سرزد ہوا ہے وہ ابات اور تکبر ہے اور وہ گناہ خلیفہ برحق کے مقابل میں کیا گیا ہے۔ارشاد الہی کے مقابلہ میں قیاس ہرگز کام نہیں آ سکتا۔بڑا وہی ہو سکتا ہے جس کو اللہ تعالی بڑا کر دے۔آنا خیر کہنے والا ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دور پھینکا گیا بلکہ یوں فرمایا گیا کہ جو ابلیس کی پیروی کرے گا وہ بھی دوزخ میں ڈالا جاوے گا۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ بنی آدم کو غیرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم اپنے مورث اعلیٰ کے قدموں کی پیروی کرو اور اس پلید خبیث ہلاک شدہ روح کی پیروی مت کرو جس نے تمہارے مورث اعلیٰ کی اطاعت سے انحراف کیا تھا۔آفتتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاء مِن دولي وهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّلِمِينَ بَداً - اے آدم کی اولاد! کیا تم ابلیس کو اور اُس کی ذریت کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ظالموں کے لئے بہت بُرا بدلہ ہے۔خلیفہ کا مقابلہ اور اس کا انکار حقیقت میں خلیفہ بنانے والے کا مقابلہ اور انکار ہوتا ہے۔دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کی اطاعت نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قَالَ يَا بَلِيسُ ما منعك أن تسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ اسْتَكْبَرْت کے فرمایا اے ابلیس ! کس چیز پنے نے تجھ کو روکا کہ اس کی فرمانبرداری کرے جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔کیا تو تئیں بڑا خیال کرتا ہے ؟ قال ناشبط مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجُ إنك من الصيغرين۔اس حالت تکبر سے اُتر جا۔تیری یہ شان نہیں ہے کہ تو تکبر کرے۔چلا جاتو ذلیلوں میں سے ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ حضرت داؤد علیہ السلام پر بولا ہے۔يد اود انا جَعَلنَكَ خَلِيفَةً فِي الأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِم الهَوى فَيُضِلُّكَ عَن سَبِيلِ اللهِ، اِنّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ۔اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ