خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 12
خلافة على منهاج النبوة ۱۲ جلد اول حضرت ابو بکر نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا۔صحابہ نے اعتراض کیا جس کے سرگروہ حضرت عمرؓ تھے۔لیکن آپ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ! جب تک وہ لوگ تمام زکوۃ حتی کہ ایک اونٹ کے باندھنے کی رسی بھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے ادا نہ کریں گے میں ان سے جنگ کروں گا۔چنانچہ صحابہ کو سر تسلیم خم کرنا پڑا اور جنگ ہوئی۔ایسی مثالیں دے کر جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر یا حضرت ابو بکر نے شوری کے مشورہ پر عمل کیا یہ ثابت کرنا کہ اس سے خلیفہ پر اطاعت شورا ی لازمی ہے غلط ہے بلکہ دیکھنا تو یہ ہے کہ جن موقعوں پر خلیفہ اور مجلس شوریٰ میں اختلاف ہوتا کیا رکیا جاتا تھا۔آیا اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ ایک امر خلیفہ کی خواہش کے خلاف تھا اور وہ اس پر مُصر تھا شوری نے کچھ اور کر دیا۔اگر یہ ثابت ہو جائے تو تب جا کر ایسے لوگوں کے دعاوی ثابت ہوتے ہیں ورنہ نہیں مگر مذکورہ بالا مثالوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں تھا ایسے اوقات میں خلیفہ وقت کی ہی رائے پر عمل کیا جاتا تھا۔عوام کا مشورہ اور رائے عوام سے مشورہ طلب کرنا بھی بہت ضروری ہے اور خدا تعالیٰ کا حکم ہے بلکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ جو خلیفہ مشورہ نہیں لیتا وہ خلیفہ ہی نہیں لیکن یہاں بھی سوال وہی ہے کہ فاذا عزمت فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ - بعض حریت کی مثالیں بعض لوگ خلفائے اسلامیہ کے زمانہ کی حریت ثابت کرنے کے لئے اس واقعہ کو بار بار دہرایا کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میری بات سنو۔اس پر ایک شخص نے اُٹھ کر صاف کہہ دیا کہ ہم تب تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ کہ یہ گر نہ تم نے کیونکر بنایا ہے جو حصہ تمہیں ملا تھا اس سے تو یہ گر تہ تیار نہیں ہوسکتا تھا۔آپ نے اس کی تسلی کی کہ میرے بیٹے نے اپنے حصہ کا کپڑا مجھے دے دیا تھا اس سے مل کر یہ گر تہ تیار ہوا۔جس پر معترض نے اپنا اعتراض واپس لیا اور حضرت عمرؓ نے اپنا خطبہ سنایا ھے۔اس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ہر ایک مسلمان کو خلیفہ سے محاسبہ کرنے کا حق تھا اور جب