خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 222
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۲ جلد اوّل اور دوسروں کو روشنی دیتی ہے پس ایسا نہ کرو کہ خود گنہگار ہو کر ان لوگوں کے لئے خلافت کی مسند خالی کرو جو گنہگار نہیں۔خوب یا د رکھو کہ جس کام کے لئے تم کوشش کر رہے ہو وہ کل دوسروں کے ہاتھ میں جائے گا اور اُس وقت آج کا عمل تمہارے لئے باعث حسرت ہوگا۔لیکن ان کو اس جوش کے وقت اس نصیحت کی قدر معلوم نہ ہوئی۔غرض اِ دھر تو حضرت عثمان اہل مدینہ کی حفاظت کے لئے ان کو ان باغیوں کا مقابلہ کرنے سے روک رہے تھے اور اُدھر آپ کے بعض خطوط سے مختلف علاقوں کے گورنروں کو مدینہ کے حالات کا علم ہو گیا تھا اور وہ چاروں طرف سے لشکر جمع کر کے مدینہ کی طرف بڑھے چلے آ رہے تھے۔اسی طرح حج کے لئے جو لوگ جمع ہوئے تھے ان کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ حج کے بعد مدینہ کی طرف سب لوگ جائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں۔جب ان حالات کا علم باغیوں کو ہوا تو اُنہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ یہ غلطی جو ہم سے ہوئی ہے کہ ہم نے اس طرح خلیفہ کا مقابلہ کیا ہے اس سے پیچھے ہٹنے کا اب کوئی راستہ نہیں۔پس اب یہی صورت نجات کی ہے کہ عثمان کو قتل کر دو۔جب اُنہوں نے یہ ارادہ کر کے حضرت عثمان کے مکان پر حملہ کیا تو صحابہ تلوار میں کھینچ کر حضرت عثمان کے دروازہ پر جمع ہو گئے۔مگر حضرت عثمان نے ان کو منع کیا اور کہا کہ تم کو میں اپنی مدد کے عہد سے آزاد کرتا ہوں تم اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ لیکن اس خطرناک حالت میں حضرت عثمان کو تنہا چھوڑ دینا اُنہوں نے گوارا نہ کیا اور واپس کو ٹنے سے صاف انکار کر دیا۔اس پر وہ ۸۰ سالہ بوڑھا جو ہمت میں بہادر جوانوں سے زیادہ تھا ہاتھ میں تلوار لے کر اور ڈھال پکڑ کر اپنے گھر کا دروازہ کھول کر مردانہ وار صحابہ کو روکنے کے لئے اپنے خون کے پیاسے دشمنوں میں نکل آیا اور آپ کے اس طرح باہر نکل آنے کا یہ اثر ہوا کہ مصری جو اُس وقت حملہ کر رہے تھے اُلٹے پاؤں کوٹ گئے اور آپ کے سامنے کوئی نہ ٹھہرا۔آپ نے صحابہ کو بہت روکا لیکن اُنہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم آپ کی بات نہ مانیں گے کیونکہ آپ کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔آخر حضرت عثمانؓ ان کو اپنے گھر میں لے آئے اور پھر دروازہ بند کر لیا۔اُس وقت صحابہ نے اُن سے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! اگر آج آپ کے