خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 221
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۱ جلد اول اور اس وقت میرے بچانے والا بھی کوئی نہ ہو۔خدا کی قسم ! میں اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں نہ ڈالوں گی کہ میرے ننگ و ناموس پر حرف آئے۔ان باغیوں نے جب دیکھا کہ ان کی طرف سے فساد کی کوئی راہ نہیں نکلتی تو آپ کے گھر پر پتھر مارنے شروع کئے تا کوئی ناراض ہو کر ان پر بھی حملہ کر دے تو ان کو عذ رمل جائے کہ ہم پر حملہ کیا گیا تھا اس لئے ہم نے بھی حملہ کیا۔پتھروں کے پڑنے پر حضرت عثمان نے آواز دی کہ اے لوگو ! خدا سے ڈرو دشمن تو تم میرے ہو اور اس گھر میں تو میرے سوا اور لوگ بھی ہیں ان کو کیوں تکلیف دیتے ہو۔ان بدبختوں نے جواب دیا کہ ہم پتھر نہیں مارتے یہ پتھر خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے اعمال کے بدلے میں پڑ رہے ہیں۔آپ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے تمہارے پتھر تو کبھی ہمیں لگتے ہیں اور کبھی نہیں لگتے اور خدا تعالیٰ کے پتھر تو خالی نہیں جایا کرتے وہ تو نشانہ پر ٹھیک بیٹھتے ہیں۔فساد کو اس قدر بڑھتا ہوا دیکھ کر حضرت عثمان نے چاہا کہ مدینہ کے لوگوں کو بیچ میں سے ہٹاؤں تا کہ میرے ساتھ یہ بھی تکلیف میں نہ پڑیں چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ اے اہلِ مدینہ ! میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہو اور میرے مکان کے پاس نہ آیا کرو اور میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ میری اس بات کو مان لو۔اس پر وہ لوگ بادل نخواستہ اپنے گھروں کی طرف چلے گئے لیکن اس کے بعد چند نو جوانوں کو پہرہ کے لئے اُنہوں نے مقرر کر دیا۔حضرت عثمان نے جب صحابہ کی اس محبت کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ اگر کوئی فساد ہوا تو صحابہ اور اہل مدینہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیں گے لیکن خاموش نہ رہیں گے تو انہوں نے اعلان کیا کہ حج کا موسم ہے لوگوں کو حسب معمول حج کے لئے جانا چاہیے اور عبد اللہ بن عباس کو جو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کا دروازہ نہیں چھوڑا تھا فرمایا کہ تم کو میں حج کا امیر مقرر کرتا ہوں۔اُنہوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم ! یہ جو یہ جہاد مجھے حج سے بہت زیادہ پیارا ہے مگر آپ نے ان کو مجبور کیا کہ فوراً چلے جائیں اور حج کا انتظام کریں۔اس کے بعد اپنی وصیت لکھ کر حضرت زبیر کے پاس بھجوا دی اور ان کو بھی رخصت کیا۔چونکہ حضرت ابو بکر کے چھوٹے لڑکے محمد ان باغیوں کے فریب میں آئے ہوئے تھے اُن کو ایک عورت نے کہلا بھیجا کہ شمع سے نصیحت حاصل کرو وہ خود جلتی ہے