خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 208

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۸ جلد اول کو جمع کر کے اس خبر سے آگاہ کیا۔اُنہوں نے کہا تو آپ ہمیں نماز پڑھائیں مگر اُنہوں نے انکار کیا اور کہا کہ جب تک کہ تم آئندہ کے لئے تو بہ نہ کرو اور حضرت عثمان کی اطاعت کا وعدہ نہ کرو میں تمہاری امامت نہ کروں گا اور تم کو نماز نہ پڑھاؤں گا۔انہوں نے وعدہ کیا تب آپ نے انہیں نماز پڑھائی لیکن فتنہ اس پر بھی ختم نہ ہوا کیونکہ ان لوگوں کی اصل غرض تو خلافت کا اُڑانا تھا۔عمال و حکام کی تبدیلی تو صرف ایک بہانہ اور حضرت عثمان کے مظالم ( نَعُوذُ بالله ) کا اظہار ایک ذریعہ تھے جس سے وہ لوگ جو مدینہ آتے جاتے نہ تھے اور اس برگزیدہ اور پاک انسان کے حالات سے آگاہ نہ تھے وہ دھو کے میں آ جاتے تھے اور اگر وہ خود آ کر حضرت عثمان کو دیکھتے تو کبھی ان شریروں کے دھوکے میں نہ آتے اور اس فساد میں نہ پڑتے۔غرض یہ فتنہ دن بدن بڑھتا ہی گیا اور آخر حضرت عثمان نے صحابہ کو جمع کیا اور دریافت کیا کہ اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کیا تدبیر کرنی چاہیے۔اس پر مشورہ ہوا اور یہ تجویز ہوئی کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ حکام کی شکایت درست بھی ہے یا نہیں اور اس بات کے معلوم کرنے کے لئے تمام صوبوں میں کچھ ایسے آدمی بھیجے جائیں جو یہ معلوم کریں کہ آیا گورنر ظالم ہیں یا یونہی ان کے متعلق غلط خبر میں پھیلا کی جارہی ہیں۔اس کام کے لئے جو آدمی بھیجے گئے ان سب نے لکھ دیا کہ ہر ایک صوبہ میں اچھی طرح امن اور امان قائم ہے۔گورنروں کے متعلق کوئی شکایت نہیں ہے لیکن عمار بن یاسر جو مصر میں بھیجے گئے تھے ان کو عبد اللہ بن سبا کے ساتھی پہلے ہی مل گئے اور اپنے پاس ہی ان کو رکھا اور لوگوں سے نہ ملنے دیا بلکہ ایسے ہی لوگوں سے ملایا جو اپنے ڈھب کے اور ہم خیال تھے اور انہیں سارے جھوٹے قصے سنائے اس لئے وہ ان کے دھو کے میں آگئے۔یہ واقعہ اسی طرح ہوا جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابوجہل کرتا تھا کہ جب لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے کے لئے آتے تو وہ ان کو روکتا کہ اول تو اس کے پاس ہی نہ جاؤ اور اگر جاتے ہو تو اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر جاؤ تا کہ اس کی آواز تمہارے کانوں تک نہ پہنچے۔اسی طرح عمار بن یا سر کو گورنر اور دوسرے امرائے مصر سے ملنے ہی نہ دیا گیا۔