خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 202
خلافة على منهاج النبوة جلد اول کو نا قابل سمجھ کر اس سے بگڑ جائے اور یہ نتیجہ اس بات سے نکلتا ہے کہ عبداللہ بن سبا ایک یہودی جو دل سے اسلام کا دشمن تھا اسی کے پاس آکر ٹھہرا ہے۔اگر حکیم سچا مسلمان ہوتا اور غیر مسلموں کا دشمن تو کبھی عبد اللہ بن سبا جو دل سے اسلام کا دشمن تھا سب بصرہ میں سے اس کو نہ چنتا بلکہ اسے اپنا دشمن خیال کرتا۔جب عبد اللہ بن سبا بصرہ سے نکالا گیا تو کوفہ کو چلا گیا اور وہاں ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی پیدا کر کے شام کو گیا لیکن وہاں اس کی بات کسی نے نہ سنی اس لئے وہ وہاں سے مصر کو چلا گیا۔مصری لوگ تازہ مسلمان تھے ان میں ایمان اس قدر داخل نہ ہوا تھا جیسا کہ دیگر بلاد کے باشندوں میں۔پھر مدینہ سے زیادہ دور تھے اور مرکز سے تعلق کم تھا اس لئے بہت کثرت سے اس کے فریب میں آ گئے۔اور عبد اللہ بن سبا نے دیکھ لیا کہ مصر ہی میرے قیام کے لئے مناسب ہو سکتا ہے چنانچہ اس نے مصر میں ہی رہائش اختیار کی اور لوگوں کو اُکسانا شروع کیا۔را دھر تو یہ فتنہ شروع تھا اُدھر چند اور فتنے بھی پیدا ہو ر ہے تھے اور ان کے بانی بھی وہی لوگ تھے جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے اور مدینہ سے اُن کا تعلق بالکل نہ تھا اس لئے ان کی تربیت نہ ہو سکتی تھی۔چنانچہ جس طرح بصرہ میں حکیم بن جبلہ، عبد اللہ بن سبا کے ساتھ مل کر یہ شرارتیں کر رہا تھا کوفہ میں بھی ایک جماعت اسی کام میں لگی ہوئی تھی۔سعید بن العاص گورنر کوفہ تھے اور ان کی صحبت اکثر ذی علم لوگوں کے ساتھ رہتی تھی مگر کبھی کبھی تمام لوگوں کو وہ اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تھے تا کل حالات سے باخبر ر ہیں۔ایک دن ایسا ہی موقع تھا باتیں ہو رہی تھیں کسی نے کہا فلاں شخص بڑا سخی ہے سعید بن العاص نے کہا کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں بھی تم لوگوں کو دیتا۔ایک بیچ میں بول پڑا کہ کاش !ال کسری کے اموال تمہارے قبضہ میں ہوتے۔اس پر چند نو مسلم عرب اُس سے لڑ پڑے اور کہا کہ یہ ہمارے اموال کی نسبت خواہش کرتا ہے کہ اس کو مل جائیں۔سعید بن العاص نے سمجھایا تو اس نے کہا کہ تم نے اس کو سکھایا ہے کہ ایسی بات کہے اور اُٹھ کر اس شخص کو مارنے لگے۔اس کی مدد کے لئے اس کا باپ اُٹھا تو اُسے بھی ماراحتی کہ دونوں بیہوش ہو گئے۔جب لوگوں کو علم ہوا