خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 201

خلافة على منهاج النبوة جلد اول اور اپنے میں آنے والوں سے پہلے ان کے لینے کے لئے تیار ہو جاؤ اور اگر آنے والے ہزاروں ہوں تو تم بھی ہزاروں ہی ان کے لینے کے لئے موجو در ہو۔اس بات کو خوب ذہن نشین کر کے اس پر عمل کرو۔صحابہ کا بڑا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیسی درد ناک مصیبت ان پر آئی تھی اور کس قدر مصائب اور آلام کا وہ نشانہ بنے تھے۔یہ فساد جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے صحابہ سے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ اُن لوگوں نے کیا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے اور صحابہ میں شامل نہ تھے۔چنانچہ اس فساد کا بانی مبانی ایک شخص عبد اللہ بن سبا تھا۔اس کی ابتدائی زندگی کا حال تو معلوم نہیں ہوتا کہ سیاست کے ساتھ اُس کو کیا تعلق تھا لیکن تاریخ میں اس کا ذکر حکیم بن جبلہ کے ساتھ آتا ہے۔حکیم بن جبلہ ایک چور تھا جب فارس پر چڑھائی ہوئی تو یہ بھی صحابہ کے لشکر میں شامل تھا۔لشکر کی واپسی پر یہ راستہ میں غائب ہو گیا اور غیر مسلموں پر حملہ کر کے ان کے اموال لوٹ لیا کرتا تھا اور بھیس بدل کر رہتا تھا۔جب غیر مسلم آبادی اور مسلم آبادی نے اس کی شرارتوں کا حال حضرت عثمان کو لکھا تو آپ نے اس کے نظر بند کرنے کا حکم دیا اور بصرہ سے باہر جانے کی اسے ممانعت کر دی گئی۔اس پر اس نے خفیہ شرارتیں اور منصوبے شروع کئے۔چنانچہ ۳۲ھ میں اس کے گھر پر عبد اللہ بن سبا مہمان کے طور پر آ کر اُترا اور لوگوں کو بلا کر ان کو ایک خفیہ جماعت کی شکل میں بنانا شروع کیا اور آپس میں ایک انتظام قائم کیا۔جب اس کی خبر والی کو ملی تو اس نے اس سے دریافت کیا کہ تو کون ہے؟ تو اس نے کہلا بھیجا کہ میں ایک یہودی ہوں اسلام سے مجھے رغبت ہے اور تیری پناہ میں آ کر ہوں۔چونکہ اس کی شرارتوں کا علم گورنر کو ہو چکا تھا اُنہوں نے اسے ملک بدر کر دیا۔یہ پہلا واقعہ ہے جو تاریخ عبداللہ بن سبا کی سیاسی شرارتوں کے متعلق ہمیں بتاتی ہے اور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکیم بن جبلہ بھی بچے دل سے مسلمان نہ تھا اور اس کا ذمیوں پر حملہ کرنا اس لئے نہ تھا کہ غیر مسلموں سے اسے دشمنی تھی بلکہ غیر مسلموں کو اسلامی حکومت کے خلاف بھڑ کانے کے لئے وہ ڈاکہ مارتا تھا جیسا کہ آجکل بنگالہ کے چند شریرہ ہندوستانی آبادی پر ڈا کہ مارتے ہیں۔اور ان کی غرض صرف اس قدر ہوتی ہے کہ عام آبادی انگریزی حکومت