خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 148

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۸ جلد اول میں سے ایک دلیل ہے ورنہ ہم الوصیت کو چھوڑتے نہیں آپ سے بڑھ کر ہم پیش کرتے ہیں۔ہمارا یقین ہے کہ الوصیت میں نہایت وضاحت سے خلافت کا ذکر ہے۔چنانچہ قدرت ثانیہ کے نام سے آپ نے خلافت کا مسئلہ ایسی وضاحت سے کھولا ہے کہ کسی صداقت پسند انسان کو اس میں شک وھبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور ابو بکر کی مثال دے کر اس مسئلہ کا پوری طرح فیصلہ کر دیا ہے۔پس آپ کا یہ لکھنا کہ لاہوری الوصیت پیش کرتے ہیں اور قادیانی نہیں کرتے ایک خلاف واقعہ بات ہے۔آپ خلافت احمدیہ کو پڑھیں اس میں الوصیت سے خلافت کو بالوضاحت ثابت کیا گیا ہے اور الوصیت کیا حضرت صاحب کی اور مختلف کتب سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ قائم ہونا تھا۔چنانچہ پیغام صلح ، حمامۃ البشری اور ایک لاہور کی تقریر سے جو ۱۹۰۸ء میں آپ نے فرمائی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے بعد خلفاء ہوں گے وہ کل جماعت کے مطاع ہوں گے اور یہ کہ خلفاء کو نبی نہیں مقرر کرتا بلکہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود خلیفہ مقرر کرتا ہے۔میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے آپ کو ایک اور واقعہ بھی یاد دلا دیتا ہوں جس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ایک وقت آپ بھی کسی دوسرے خلیفہ کے منتظر تھے جب حضرت خلیفہ اسیح گھوڑے سے گر کر سخت بیمار تھے تو اُس وقت مرزا یعقوب بیگ صاحب مجھے گھر سے بلا کر مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی تک لے گئے تھے وہاں آپ بھی تھے۔مولوی صاحب بھی تھے اور دوسرے آپ کے دوستوں میں سے بھی دوآدمی تھے۔آپ نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ حضرت کی حالت خطر ناک ہے مجھے خلیفہ ہونے کی خواہش نہیں اور نہ مولوی صاحب کو ہے ہم سب آپ کو ہی خلیفہ بنائیں گے لیکن آپ یہ بات مدنظر رکھیں کہ ہمارے لاہور سے آنے تک خلیفہ کا انتخاب نہ ہو۔آپ نے اپنے آنے تک انتظار کرنے پر جو زور دیا اس میں آپ کی نیت کیا تھی اس سے مجھے بحث نہیں مگر میں نے ایک اثر کی بناء پر کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے انتخاب پر بحث کرنا نا جائز ہے گفتگو کرنے سے انکار کر دیا اور بات ختم ہو گئی۔اس واقعہ سے آپ کو یاد آ گیا ہو گا کہ آپ بھی کسی وقت خلافت کے قائل تھے یا کسی مصلحت کی وجہ سے آپ نے ایسا ظاہر کرنا پسند فرمایا تھا آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس