خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 147
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۷ جلد اول خیالات بھی اسی قسم کے ہیں تو وہ کیسے ناراض ہوئے تھے بلکہ اس کی بھی ضرورت نہیں کیا آپ خود تریاق القلوب کے مطابق قسم کھا کر ان دونوں امور پر شہادت دے سکتے ہیں کہ خلیفہ اول خلافت کے متعلق آپ کے خیالات سے متفق تھے یا یہ کہ ناراض نہ تھے اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی بیعت ایک انعام کے طور پر اور خوشی کی سند کے طور پر تھی یا اس لئے کہ آپ کی مخالفت کی بناء پر آپ کو جماعت سے الگ خیال کر کے آپ سے دوبارہ بیعت لی گئی تھی ؟ مجھے اس پر بھی تعجب آتا ہے کہ آپ نے اس بیعت کے متعلق لکھا ہے کہ وہ مجھ سے اور نواب صاحب سے بھی لی گئی۔اس کے متعلق میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے جھوٹ بولا ہاں آپ کو یاد نہیں رہا۔میں نے ایک خواب دیکھی تھی اور حضرت کو سنائی تھی اسی کی بناء پر آپ نے عین تقریر میں مجھے اپنی بائیں طرف سے اُٹھا کر دائیں طرف بٹھا یا اور پھر اپنی تائید میں تقریر کرنے کا ارشاد فرمایا۔ورنہ مجھ سے کوئی بیعت نہیں لی گئی اور نہ نواب صاحب سے۔باقی رہا وصیت کا معاملہ اس پر خلافت احمدیہ میں مفصل بحث موجود ہے آپ پہلے اس کا جواب دے دیں۔پھر اس پر بھی کچھ لکھ دیا جائے گا مگر ضروری ہے کہ جو کچھ پہلے لکھا جا چکا ہے اس کا جواب پہلے ہو جائے۔اگر آپ کے پاس یہ رسالہ نہ ہو تو آپ مجھے اطلاع دیں میں آپ کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔اسی میں تحریر کا معاملہ بھی آچکا ہے مگر میں سوال کرتا ہوں دنیا میں لاکھوں نبی اور مامور گزرے ہیں کیا ان میں سے ایک بھی ایسا ہوا ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کی ساری امت گمراہ ہو جائے اور ضلالت پر اجماع ہو؟ یہ ناممکن ہے۔پس وہی معنی درست ہیں جو خدا تعالیٰ کے عمل نے کئے کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف اس کا فعل ہو۔خلافت پر ایک خاص رنگ میں بحث میرے لیکچر میں بھی ہے جو سالانہ جلسہ پر ہوا اور اب چھپ رہا ہے۔وہ چھپ جائے گا تو وہ بھی آپ کو بھجوا دیا جائے گا اس کو بھی دیکھ لیں۔میں اس جگہ یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خواجہ صاحب اپنے مضمون میں بار بار لکھتے ہیں کہ ہم الوصیت پیش کرتے ہیں اور ہمارے مقابلہ میں پچھلا طریق عمل پیش کیا جاتا ہے اب بتاؤ کہ کون حق پر ہے۔لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ طریق عمل تو اور دلیلوں