خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 142

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۲ جلد اول میری اس سے یہ غرض نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی پسندیدگی سے خلافت کا مسئلہ حل ہو جائے گا کیونکہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی پسندیدگی یا عدم پسندیدگی سے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔کیونکہ اصل فیصلہ وہی ہونا چاہئے جو اسلام اور مسیح موعود کے حکم کے ماتحت ہو۔لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے مضمون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اصیح بھی آپ کے اس خیال کے مؤید تھے اور آپ صرف ایک بزرگ ہونے کے لحاظ سے بیعت لیتے تھے نہ کہ خلیفہ کی حیثیت سے۔لیکن یہ بات صریح غلط ہے۔حضرت کی پہلی تقریر جو خلافت سے پہلے آپ نے کی موجود ہے اور آپ لوگوں نے اس پر جو اعلان کیا وہ بھی موجود ہے۔ان کو دیکھ کر کوئی انسان فیصلہ نہ کرے گا کہ حضرت خلیفہ امسیح مسئلہ خلافت کے قائل نہ تھے بلکہ یہ بھی فیصلہ نہ کرے گا کہ خود خواجہ صاحب بھی قائل نہ تھے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح کو جب بیعت کے لئے کہا گیا تو آپ نے ایک تقریر فرمائی جس کے بعض فقرات ذیل میں درج ہیں۔موجودہ وقت میں سوچ لو کہ کیسا وقت ہے جو ہم پر آیا ہے۔اس وقت مردوں بچوں عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کر لو ( جن کے آپ نے پہلے نام لئے تھے ) میں تمہارے ساتھ ہوں“۔پھر آگے فرماتے ہیں :۔میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دفن ہونے) سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے“۔اب ان دونوں فقرات سے کیا ظاہر ہوتا ہے کیا یہ کہ آپ خلافت کی بیعت کے لئے کھڑے ہوئے تھے یا اپنے زہد و تقاء کی وجہ سے آپ نے دوسرے پیروں کی طرح بیعت لی تھی۔یہ فقرات دلالت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دفن ہونے سے پہلے آپ چاہتے تھے کہ کل جماعت ایک خلیفہ کے ماتحت ہو اور اس میں وحدت پیدا ہو جائے نہ و تقویٰ کی وجہ سے بیعت لینے کے لئے آگے بڑھے تھے۔پھر آپ نے جو اعلان حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر شائع کیا اس میں آپ نے لکھا ہے کہ مطابق الوصیت آپ کی