خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 141
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۱ جلد اول القول الفصل ( مطبوعه ۳۰ /جنوری ۱۹۱۵ء) حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے وقت خواجہ کمال الدین صاحب لندن میں تھے۔آپ نومبر ۱۹۱۴ء میں واپس آئے اور اہل پیغام کے پہلے جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء میں ایک لیکچر ” اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب‘ پر دیا جو بعد میں ٹریکٹ کی شکل میں احمدی احباب میں مفت تقسیم کیا گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جب اس لیکچر کا مطالعہ فرمایا تو اُسی دن یعنی ۲۱ / جنوری ۱۹۱۵ء کو صبح سے شام تک یہ جوابی رسالہ "القول الفصل“ کے نام سے تحریر فرمایا جو ۳۰ /جنوری ۱۹۱۵ء کو انجمن ترقی اسلام نے شائع کیا۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی ، خواجہ کمال الدین صاحب کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔اب ایک مسئلہ خلافت باقی رہ گیا ہے جس پر خواجہ صاحب نے بڑا زور دیا ہے اور درحقیقت یہی ایک بڑی بنائے مخاصمت ہے ورنہ ہم سے ان کو کچھ زیادہ پُر خاش نہیں۔خلافت کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ وہی باتیں ہیں جن کا مفصل جواب خلافت احمد یہ میں حضرت خلیفہ اول کے حکم کے ماتحت انجمن انصار اللہ نے دیا تھا۔اب ایک طرف تو وہ مضمون ہے جس کا خود خلیفہ اول نے حکم دیا اسے دیکھا، اصلاح فرمائی ، اجازت دی۔کیا اس کے مقابلہ میں آپ بھی کوئی ایسا مضمون خلافت کے خلاف پیش کر سکتے ہیں جسے حضرت خلیفہ اول نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو، پسند فرمایا ہو اور شائع کرنے کی اجازت دی ہوتا کہ اس سے آپ کے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے کہ حضرت خلیفہ اول شخصی خلافت کے قائل نہ تھے۔