خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 135
خلافة على منهاج النبوة ۱۳۵ جلد اول یہ رویا تو ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ مولوی صاحب کے بعد خلافت کا کام میرے سپرد ہو گا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح مجھے بہ لباس سرا و مور کرے کے دکھائے گئے اور افواج کی کمانڈ سے مراد جماعت کی سرداری تھی کیونکہ انبیاء کی جماعتیں بھی ایک فوج ہوتی ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دین کو غلبہ دیتا ہے۔اس رؤیا کی بناء پر یہ بھی امید ہے کہ اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی تبلیغ کا کام جماعت احمدیہ کے ہاتھ سے ہوگا اور غیر مبائعین احمدیوں کے ذریعہ نہ ہوگا۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔برکت مبائعین کے کام میں ہی ہوگی۔اس رؤیا کا جب غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک ایسی زبردست شہادت معلوم ہوتی ہے کہ جس قد ر غور کریں اُسی قدر عظمتِ الہی کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لارڈ کے چند کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت خلیفہ اول کو سر او مور کرے کے نام سے۔اور جب ہم ان دونوں افسروں کے عہدہ کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈک چند ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سر اومور کرے کمانڈر مقرر ہوئے مگر یہ بات تو پچھلی تھی۔عجیب بات یہ ہے کہ جس سال اور جس مہینہ میں سرا ومور کرے ہندوستان سے راونہ ہوئے ہیں اُسی سال اور اُسی مہینہ یعنی مارچ ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفتہ اسیح فوت ہوئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقرر فرمایا۔کیا کوئی سعید الفطرت انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ رویا شیطانی ہوسکتی تھی یا کوئی انسان اس طرح دو تین سال قبل از وقوع ایک بات اپنے دل سے بنا کر بتا سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن تھا کہ میں دو سال پہلے یہ سب واقعات اپنے دل سے گھڑ کر لوگوں کو سُنا دیتا اور پھر وہ صحیح بھی ہو جاتے ؟ یہ کون تھا جس نے مجھے یہ بتا دیا کہ حضرت مولوی صاحب مارچ میں فوت ہوں گے ،۱۹۱۴ء میں ہوں گے اور آپ کے بعد آپ کا جانشین میں ہوں گا۔کیا خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ایسا کر سکتا ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔اس رویا میں یہ جو دکھایا گیا کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اس کے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اس وقت فساد کھڑا کیا اور